سائنس سے معرفت تک
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱
روشنی میں مادی دنیا کا مطالعہ شروع ہوا۔ یہ مطالعہ تیزی سے بڑھا، یہاں تک کہ سائنس سب سے بڑا علمی شعبہ بن گیا۔ اس سائنسی مطالعے نے فطرت کے بہت سے اسرار دریافت کیے، جواب تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ یہ دریافتیں تخلیقی دنیا سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس بنا پر ان کا تعلق براہ راست طور پر خالق کی معرفت سے تھا۔
سائنسی علوم کا مطالعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی معرفت کا مطالعہ تھا۔ مگر سائنسدانوں نے اس مطالعے کو مکمل طور پر ایک سیکولر سبجکٹ کے طور پر کیا۔ تقریباً چار سو سال کے سائنسی مطالعے کے نتیجے میں جو سائنسی معلومات انسان کے علم میں آئی ہیں، وہ سب کی سب معرفت خداوندی کا دفتر ہیں۔ لیکن سائنسی دریافتوں کا یہ پہلو ابھی تک چھپا ہوا تھا۔ اس معاملے میں اب اہل اسلام کا رول یہ ہے کہ وہ اس کے ریفرنس (reference) کو بدلیں۔ علوم فطرت کی جو دریافتیں اب تک سیکولر دریافتوں کی حیثیت سے سمجھی جاتی رہی ہیں، ان کورب العالمین کی دریافت کا درجہ دے دیں۔ وہ سائنس کو اسلام کے علم کلام کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائیں۔ ان دریافتوں کی بنیاد پر وہ اسلام کا نیا علم کلام مدون کریں۔
سائنس سے معرفت تک
سائنس کیا ہے۔ سائنس دراصل ایک منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طور پر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے: Science: the systematized knowledge of nature and the کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور و فکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں، اس کے بعد فلسفیانہ طرزِ فکر کی روشنی میں، اور پھر سائنس کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں۔ سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues