I think, therefore, I am
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۲۰
اِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِکَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (3:18)۔ یعنی اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقیناً اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور فرشتے اور اہل علم میں سے جو انصاف پر قائم ہیں (وہ بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ) اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ غالب ہے حکمت والا۔ اللہ شہادت دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیق کے ہر جزء پر خالق کی اسٹیپ (stamp) لگی ہوئی ہے۔ تخلیق (creation) کا مطالعہ باعتبارِ حقیقت خالق کے عمل (act) کا مطالعہ ہے۔ تاہم اس معاملے میں سائنس کے آغاز پر ایک ناموافق حادثہ پیش آیا۔ وہ سائنٹفک کمیونٹی اور کرسچن چرچ کے درمیان ٹکراؤ تھا۔ اس کی تفصیل درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے :
History of the Conflict Between Religion and Science by John William Draper (1874)
یہ تصادم سائنٹفک کمیونٹی اور کرسچن چرچ کے درمیان تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ سائنٹفک کمیونٹی نے نیچر کے مطالعہ (باعتبارِ حقیقت تخلیق کے مطالعہ) میں تخلیق اور خالق کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کر دیا۔ وہ تخلیق کا مطالعہ خالق کے ریفرنس کے بغیر کرنے لگے۔ اس طرح سائنس بظاہر ایک سیکولر سبجکٹ بن گیا۔ حالاں کہ باعتبارِ حقیقت وہ مکمل طور پر ایک مذہبی سبجکٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔
اس کے بعد دوسری غلطی مسلم علماء نے کی۔ انھوں نے سائنس کو ایک مادی سبجکٹ کا درجہ دے دیا، جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ ہو۔ حالاں کہ مسلم علماء کو کرنا یہ تھا کہ وہ اس ڈی لنکنگ کو ختم کردیں۔ وہ دنیا کو یہ بتائیں کہ سائنس جس مطالعے کو نیچر کا مطالعہ کہہ رہی ہے، وہ دراصل تخلیق کا مطالعہ ہے، اور تخلیق کا مطالعہ اپنے آپ تخلیق کے خالق کا مطالعہ ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت میں اولو العلم سے مراد دین کے علماء نہیں ہیں، بلکہ طبیعیاتی سائنس کے علماء ہیں۔ اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا۔ اس کو سائنس کا دور (age of science) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں خالص عقلی اصولوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues