Al-Risala · March 2018 · page 24

سائنس سے معرفت تک

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴

تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخرکار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینک کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ ان لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جو یل پرائمک (Joel Primack) نے کہا تھا کہ یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:

The ripples are no less than the handwriting of God. جارج اسموٹ 1945 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو کا سمک بیگ گراؤنڈ ایکسپلورر، کے لیے کام کرنے پر دیا گیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہر دار سطحیں پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینک کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے:

George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist and cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was "like seeing the face of God". (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000)

جب یہ بات ثابت ہو جائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار فرمائی ہے۔ کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصو بہ بندی ہے، جو بے نقص ڈیزائن ہے، وہ حیرت انگیز طور پر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتا تا ہے۔ کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی موجودگی کا اشارہ کرتی ہے۔ اس موضوع پر اب بہت زیادہ لٹریچر تیار ہو چکا ہے، جس کو انٹرنیٹ پر یا لائبریری میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page