Al-Risala · March 2018 · page 31

قرآن کی سائنسی تفسیر

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۳۱

لگتا ہے۔ اسی طرح کم جسامت کی زمین کشش کی کمی کی وجہ سے پانی کی اس کثیر مقدار کو روک نہ سکتی جو زمین پر موسمی اعتدال کو باقی رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اور اسی بنا پر ایک سائنس داں نے اس کو عظیم توازنی پہیہ (Great Balance Wheel) کا نام دیا ہے، اور ہوا کا موجودہ غلاف اڑ کر فضا میں گم ہو جاتا تو اس کا حال یہ ہوتا کہ اس کی سطح پر درجہ حرارت چڑھتا تو انتہائی حد تک چڑھ جاتا، اور گرتا تو انتہائی حد تک گر جاتا۔ اس کے برعکس اگر زمین کا قطر موجودہ زمینی قطر کے مقابلے میں دگنا ہوتا تو اس کی کشش ثقل بھی دگنی بڑھ جاتی، کشش کے اس اضافہ کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا، جو اس وقت زمین کے اوپر پانچ سو میل کی بلندی تک پائی جاتی ہے، وہ کھنچ کربہت نیچے تک سمٹ جاتی، اس کے دباؤ میں فی مربع انچ 15 تا 30 پونڈ کا اضافہ ہو جاتا، جس کا نتیجہ مختلف صورتوں میں زندگی کے لئے نہایت مہلک ثابت ہوتا، اور اگر زمین کی جسامت سورج کے برابر ہوتی اور اس کی کثافت برقرار رہتی تو اس کی کشش ثقل ڈیڑھ سو گنا بڑھ جاتی، ہوا کے غلاف کی دبا زت گھٹ کر پانچ سو میل کے بجائے صرف چار میل رہ جاتی، نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا کا دباؤ ایک ٹن فی مربع انچ تک جا پہنچتا، اس غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے زندہ اجسام کا نشو و نما ممکن نہ رہتا، ایک پونڈ وزنی جانور کا وزن ایک سو پچاس پونڈ ہو جاتا، انسان کا جسم گھٹ کر گلہری کے برابر ہو جاتا، اور اس میں کسی قسم کی ذہنی زندگی نا ممکن ہو جاتی، کیونکہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لئے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے، اور اس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجہ کی جسامت ہی میں پایا جا سکتا ہے۔

قرآن کی سائنسی تفسیر

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page