انسان کی مسلسل حفاظت
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰
انسان کی مسلسل حفاظت
قرآن میں انسان کے بارے میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قُلْ مَنْ يَكْلؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُعْرِضُونَ (21:42)۔ قرآن کو ماننے والے ساتویں صدی عیسوی سے اس کو مانتے تھے۔ لیکن ان کا ماننا بطور عقیدہ تھا، وہ ایک معلوم حقیقت کے طور پر نہ تھا۔ فلکیاتی سائنس نے پہلی بار اس کو بطور حقیقت کے دریافت کیا۔ اس بارے میں قرآن کے ماننے والوں کا عقیدہ واقعاتی طور پر ایک معلوم حقیقت بن گیا۔ سائنس کے مطابق، زمین اپنی جسامت کے اعتبار سے کائنات میں ایک ذرے سے بہت زیادہ کم ہے، مگر اس کے باوجود وہ ہماری تمام معلوم دنیاؤں میں اہم ترین ہے، کیونکہ اس کے اوپر حیرت انگیز طور پر وہ حالات مہیا ہیں، جو ہمارے علم کے مطابق اس وسیع کائنات میں کہیں نہیں پائے جاتے۔ سب سے پہلے زمین کی جسامت کو لیجئے، اگر اس کا حجم کم یا زیادہ ہوتا تو اس پر زندگی محال ہوجاتی۔ مثلًاکرۂ زمین، اگر چاند اتنا چھوٹا ہوتا، یعنی اس کا قطر موجودہ قطر کی نسبت سے ایک چوتھائی 1/4 ہوتا تو اس کی کشش ثقل، زمین کی موجودہ کشش کا 1/6 رہ جاتی ، کشش کی اس کمی کا نتیجہ یہ ہو جاتا کہ ہماری دنیا پانی اور ہوا کو اپنے اوپر روک نہ سکتی، جیسا کہ جسامت کی اسی کمی کی وجہ سے چاند میں واقع ہوا ہے۔ چاند پر اس وقت نہ تو پانی ہے، اور نہ کوئی ہوائی کرہ ہے۔ ہوا کا غلاف نہ ہونے کی وجہ سے چاند رات کے وقت بیحد سرد ہو جاتا ہے، اور دن کے وقت تنور کے مانند جلنے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues