Al-Risala · March 2018 · page 35

سائنس کا نظریاتی کنٹری بیوشن

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۳۵

تجویز ایک سائنس فکشن سے زیادہ کچھ نہیں۔

اسی طرح سائنس نے دریافت کیا کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک کامل دنیا کا متلاشی ہے، لیکن موجودہ دنیا میں یہ کامل دنیا بننا ممکن نہیں۔ یہ دریافت بالواسطہ طور پر جنت جیسی ایک دنیا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ جس دنیا میں ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر پائی جاتی ہو، وہاں جنت جیسی ایک دنیا کا ہونا، اپنے آپ میں ایک ثابت شدہ بات ہے۔ جنت اگر دکھائی نہیں دیتی تو اس کو نہ دکھائی دینے والی دنیا میں موجود ہونا چاہیے ۔ جنت انسان کی طلب کا مطلوب ہے، اور کائنات کا مطالعہ جس بامعنی دنیا(meaningful world) کی نشاندہی کر رہا ہے، اس میں علمی طور پر یہ نا ممکن ہے کہ طلب تو پائی جائے، لیکن مطلوب موجود نہ ہو۔ یہ دریافت جنت کی موجودگی کا ایک استنباطی ثبوت(inferential proof) ہے۔

سائنس کا نظریاتی کنٹری بیوشن

اسلام کے لیے سائنس کا ایک کنٹری بیوشن وہ ہے جس کو نظریاتی کنٹری بیوشن کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے تمام زمانوں میں قوموں کے اندر توہماتی طرزِ فکر کا رواج تھا۔ لوگوں کے اندر مبنی بر حقیقت سوچ موجود نہ تھی۔ توہماتی عقائد کے تحت لوگ طرح طرح کے بے بنیاد رائیں بنائے ہوئے تھے۔ اس کی ایک مثال گرہن کا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آسمان میں سورج گرہن یا چاند گرہن کا واقعہ پیش آتا ہے۔ اس معاملے میں لوگ توہماتی عقیدہ بنائے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر اس قسم کا ایک واقعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں پیش آیا تھا۔ یہ سورج گرہن تھا، جو 10 ہجری میں پیش آیا تھا۔ اسی تاریخ کو پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ قدیم زمانے میں یہ مانا جاتا تھا کہ گرہن اس وقت پڑتا ہے، جب زمین پر کوئی سنگین واقعہ پیش آئے۔ چناں چہ مدینہ کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ چوں کہ آج پیغمبر کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے، اس لیے یہ گرہن پڑا ہے۔ پیغمبر اسلام کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے لوگوں کو مدینہ کی مسجد میں اکٹھا کر کے ایک خطبہ دیا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے : سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں (آیتان من آیات

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page