Al-Risala · March 2018 · page 36

سائنس کا نظریاتی کنٹری بیوشن

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۳۶

الله ) ، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے، اور نہ کسی کی زندگی سے ۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو یاد کرو (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1052 )۔

پیغمبر اسلام نے اپنے اس خطاب میں گرہن کو خدا کی ایک نشانی (sign of God) بتایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ گرہن کا واقعہ کسی زمینی حادثہ کی بنا پر پیش نہیں آتا۔ بلکہ وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے ابدی قانون کے تحت پیش آتا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی مطالعہ کے تحت متعین طور پر یہ معلوم ہو چکا ہے کہ گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے :

An eclipse is a well-calculated alignment of three moving bodies of different sizes in the vast space at a particular point in time. یہی معاملہ شرک کا ہے۔ شرک نام ہے خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی پرستش کرنا۔ اسی کو انیمزم (animism) کہا جاتا ہے۔ انیمزم کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے فوق الفطری طاقت میں یقین رکھنا جو مادی کائنات کو آرگنائز کرتے ہیں اور زندگی دیتے ہیں :

The belief in a supernatural power that organizes and animates the material universe. شرک دراصل تمام تر توہمات پر مبنی ایک عقیدہ ہے۔ اسی فکر کے تحت قدیم دنیا میں فطرت کی پرستش (nature worship) کا عقیدہ پیدا ہوا۔ فطرت کے تمام مظاہر انسان کے لیے پرستش کا موضوع (subject) بن گئے۔ مثلاً سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ ، سمندر ، درخت ، وغیرہ۔ قدیم زمانے میں پوری دنیا میں شرک چھایا ہوا تھا۔ اسلام کا مشن یہ تھا کہ اس توہماتی عقیدہ کا غلبہ ختم کر دیا جائے ۔ اصولی طور پر اسلامی تحریک نے اس کو انجام دیا۔ اسلام نے اعلان کیا کہ اس قسم کا عقیدہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں شرک کا عقیدہ علمی طور پر ایک بے بنیاد عقیدہ بن کر رہ گیا۔ اس معاملے میں سائنس کا کنٹری بیوشن بہت اہم تھا۔ سائنس کا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اس نے مشاہداتی سطح (demonstrative level) پر ثابت کیا کہ یہ ایک غیر عقلی اور ایک بے اصل عقیدہ ہے ۔ سائنس نے مشاہداتی سطح پر یہ ثابت کیا کہ پوری مادی دنیا ایٹم کا مجموعہ ہے، اور ایٹم

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page