Al-Risala · March 2018 · page 40

مغربی اقوام، دوست اقوام

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴۰

کے ذریعہ اپنا نان پولیٹیکل ایمپائر دنیا میں قائم کر سکیں۔

اہلِ مغرب نے تاریخ میں پہلی بار پرنٹنگ پریس کا پورا نظام قائم کیا، جو اسلامی مشن کے لیے عین مطلوب حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا تھا کہ قرآن کے لیے سارے عالم کے لیے نذیر ہے (الفرقان: 1)۔ مگر اس نشانہ کو قابل حصول نشانہ اہل مغرب نے اپنی تہذیب (civilization) کے ذریعہ بنایا۔ قرآن میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے اظہار کو تبیین حق کا سب سے بڑا واقعہ بتایا گیا تھا (فصلت: 53)۔ یہ کام بھی اہلِ مغرب کی دریافت کردہ تہذیب کے ذریعہ قابل عمل بنا، وغیرہ۔

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : الحكمۃ ضالة المؤمن، حيثما وجد المؤمن ضالتہ فلیجمعہا إليه (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 146)۔ یعنی حکمت مومن کا متاع گم شدہ ہے، مومن جہاں اپنی گم شدہ متاع کو پائے تو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے پاس لے لے۔ پیغمبر کے بیان کردہ اس اصول کا اطلاق (application) اہلِ یورپ کی پیدا کردہ ماڈرن تہذیب پر بھی یقینی طور پر ہوتا ہے مؤیدین کے گروہ نے اپنا کام انجام دے دیا ہے۔ اب اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس کام کو بطور مواقع (opportunities) دریافت کریں، اور ان کو پیغمبر کے دین کی حمایت میں استعمال کریں۔ یہ واقعہ اتنا بڑا ہے کہ اہل اسلام کو اس میں حقیقی دریافت ہو جائے تو ان کے تمام منفی خیالات (negative thought) مکمل طور پر ختم ہو جائیں، اور وہ کامل مثبت ذہن کے ساتھ جدید مواقع کو استعمال کرنے کی طرف دوڑ پڑیں۔

مغربی اقوام، دوست اقوام

نزول قرآن کے زمانے میں انسانی تاریخ جس مرحلے میں تھی، اس کے لحاظ سے اہل ایمان کو یہ فارمولا بتایا گیا کہ اگر کوئی بظاہر تم کو دشمن نظر آئے تو اس کے ساتھ تم رد عمل کا سلوک نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ یک طرفہ طور پر حسن سلوک کا طریقہ اختیار کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمھارا دشمن تمھارا دوست بن جائے گا (فصلت : 34)۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حسن سلوک کا یہ طریقہ ایک وقتی تدبیر کا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page