Al-Risala · March 2018 · page 39

اہل ایمان، اہل تائید

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۳۹

کے قائد (leader) بن گئے۔ سیاسی معنوں میں نہیں، بلکہ غیر سیاسی معنوں میں۔ اہل مغرب کی ترقی مذہبی ترقی نہیں تھی، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے سیکولر ترقی تھی۔ اس ترقی میں فطری طور پر ہر قوم کو حصہ ملا، اور اہل ایمان کو بھی۔ اس طرح ایسا ہوا کہ اہل ایمان کو کسی پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر اہل مغرب کی سیکولر تائید (secular support) مل گئی۔ اس طرح اہل ایمان اس قابل ہو گئے کہ وہ دور جدید میں پیغمبر کے لائے ہوئے دین کو دوبارہ غیر سیاسی طور پر قائم کر سکیں، جس کو وہ پچھلی تاریخ میں سیاسی طور پر قائم کیے ہوئے تھے۔

اہل مغرب کی یہ سیکولر تہذیب بھی تاریخ کا وہ انقلابی واقعہ ہے جس کو حدیث میں غیر اقوام کے ذریعہ اہل اسلام کی تائید (support) قرار دیا گیا ہے ہے(المعجم الکبیر، حدیث نمبر 4640)۔ اہل مغرب نے پیغمبر اسلام کے دین کی تائید میں جو کارنامے انجام دیے، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی فہرست بنانا مشکل ہے۔ مثلاً اہل مغرب کے ذریعہ لائے ہوئے انقلاب کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اہل اسلام کو عالمی مواصلات (global communication) کا عظیم تحفہ ملا۔

اہل مغرب نے ہوائی جہاز رانی (aviation) کا عالمی نظام قائم کر کے اسلامی دعوت کو ایک نئے دور میں پہنچا دیا۔ اہل مغرب نے عرب دنیا کے نیچے موجود پٹرول کو دریافت کیا، اور پھر اس کو کمر شلائز کر کے اہل اسلام کو ایک نئی طاقتور معاشی بنیاد فراہم کردی۔ اہل مغرب نے پہلی عالمی جنگ، اور دوسری عالمی جنگ کے تجربات کے بعد اقوام متحدہ (UNO) قائم کیا، جس کے ذریعہ پہلی بار ایسا ہوا کہ عالمی امن کے تصور نے یونیورسل نارم (universal norm) کی حیثیت اختیار کر لی۔ اہل مغرب نے تاریخ میں پہلی بار جمہوریت (democracy) کا نظام قائم کیا، جس نے تاریخ میں پہلی بار پولیٹیکل پاور اور مواقع (opportunities) کو ایک دوسرے سے الگ (delink) کر دیا۔ اب پولیٹیکل رولر کے پاس صرف ایڈمنسٹریشن کا شعبہ رہ گیا۔ اس کے علاوہ دوسرے تمام شعبے ہر انسان کے لیے آزادانہ طور پر کھل گیے۔ اس طرح اہل اسلام کو موقع مل گیا کہ وہ بلا روک ٹوک دین خداوندی کی اشاعت کی عالمی منصوبہ بندی کر سکیں۔ وہ تنظیم (organization)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page