The business of America is business
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴۲
لڑائی کا آپشن (option) باقی نہ رہا۔
تاہم مختلف اسباب کے تحت جاپانی قوم نے اپنے آپ کو منفی ردعمل (reaction) سے بچایا۔ انھوں نے غیر جانب دارانہ انداز میں سوچا تو وہ اس دریافت تک پہنچے کہ امریکا نہ کسی کا دشمن ہے، نہ کسی کا دوست۔ امریکا کا فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ اس کا سیلف انٹرسٹ ہے۔ چناں چہ امریکا میں کہا جاتا ہے:
The business of America is business
چناں چہ جاپان نے یہ فیصلہ کیا کہ امریکا کو اپنا دوست ملک بنالیں تو امریکا بھی ہمیں اپنا دوست ملک بنالے گا۔ اس کے بعد جاپان نے یوٹرن (u-turn) لیا۔ انھوں نے امریکا سے نزاع کی پالیسی کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا۔ اس پالیسی نے جاپان کو یہ موقع دیا کہ وہ امریکا کے سپورٹ سے اپنی قومی ترقی کا سفر نہایت تیزی کے ساتھ جاری کر سکے۔ یہ پالیسی کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ 25 سال بعد جاپان دنیا کے نقشے پر ایک نئی طاقت بن کر ابھرا۔ یہاں تک کہ وہ اقتصادی سوپر پاور (economic super-power) کے درجے تک پہنچ گیا۔
یہ تاریخی ظاہر ہ (historical phenomenon) اہل اسلام کی رہنمائی کے لیے ابھرا ہے۔ اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ دل سے مغرب کو اپنا دوست قرار دیں۔ اگر مسلمان ایسا کر سکیں تو بہت جلد دنیا یہ واقعہ دیکھے گی کہ مسلمان دیگر اقوام کی تائید سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوم بن کر ابھری ہے، جنگجو قوم نہیں بلکہ پرامن قوم کی حیثیت سے۔ پھر وہ واقعہ عالمی سطح پر پیش آئے گا، جس کا تاریخ کو لمبی مدت سے انتظار ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس کی پیشین گوئی ساتویں صدی کے ربع اول میں قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ ملت مسلمہ کی غفلت سائنس (physical science) اپنی حقیقت کے اعتبار سے گویا اسلام کا علم کلام تھا۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues