The business of America is business
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴۳
اسلامی علم کلام کو قیاسی فلسفہ کے بجائے برہانیات پر قائم کرنا تھا، یعنی دلائل عقلیہ کی بنیاد پر۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ سائنس کو سیکولر گروہ نے ہائی جیک کر لیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلمان اپنی منفی سوچ کی بنا پر سائنس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ وہ انتہائی بے بنیاد طور پر مغرب کی ہر چیز کے خلاف ہو گئے۔ یہاں تک کہ سائنس کے بھی۔ اگر مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ بروقت اپنا رول ادا کرتا تو سائنس ربانی حقیقتوں کی دریافت کا علم بن جاتا۔ مگر مسلمانوں کی کوتاہی کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔ اس معاملے میں ایک واقعہ یہاں بطور مثال نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عنایت اللہ خاں مشرقی (1963-1888) نے بیان کیا ہے۔ عنایت اللہ خاں مشرقی اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے تھے۔ وہاں انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ جس زمانے میں وہ وہاں تھے، اس وقت سر جیمز جینس کیمبرج یونیورسٹی میں اپلائیڈ ریاضیات (applied mathematics) کے پروفیسر تھے۔ عنایت اللہ خاں مشرقی نے سرجیمز جینس کے ساتھ اپنے طالب علمی کے زمانے کے ایک واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
”1909ء کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا، اور زور کی بارش ہو رہی تھی، میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس (James Jeans) پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے، میں نے قریب ہو کر سلام کیا، انھوں نے کوئی جواب نہ دیا، دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، ”تم کیا چاہتے ہو‘ میں نے کہا، دو باتیں اول یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے، سر جیمز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتا کھول لیا، دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا گھر میں عبادت کے لئے جا رہا ہے، یہ کیا؟ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز لمحہ بھر کے لئے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا” آج شام کو چائے میرے ساتھ پیو‘ چنانچہ میں شام کو ان کی رہائش گاہ پہنچا ٹھیک 4 بجے لیڈی جیمز باہر آ کر کہنے لگیں ”سر جیمز تمہارے منتظر ہیں‘‘ اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی، پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے، کہنے لگے ”تمہارا سوال کیا تھا‘‘ اور میرے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues