Al-Risala · March 2018 · page 44

The business of America is business

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴۴

جواب کا انتظار کئے بغیر اجرام آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیر باہم کشش اور طوفان ہائے نور پروہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستان کبریا و جبروت پر دہلنے لگا، اور ان کی اپنی کیفیت تھی سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے، آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دو گونه کیفیتیں عیاں تھیں، اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے، اور آواز لرز رہی تھی، فرمانے لگے ’’عنایت اللہ خاں! جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی کا ہر ذره میرا ہم نوا بن جاتا ہے، مجھے بیحد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے، مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے، کہو عنایت اللہ خاں! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں گر جے کیوں جاتا ہوں‘‘۔ علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا، میں نے کہا ’’جناب والا! میں آپ کی روح افروز تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں، اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یاد آگئی اگر اجازت ہو تو پیش کروں، فرمایا ضرور‘‘ چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی: وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ۔ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (35:27-28)_ یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے: ’’کیا کہا، اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں، حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ ومشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمد کو کس نے بتائی، کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے، اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے، محمد ان پڑھ تھا، اسے یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی، اسے یقیناً اللہ نے بتائی تھی، بہت خوب، بہت عجیب۔ (نقوش شخصیات نمبر، صفحات 9 - 1208)

اصل یہ ہے کہ سائنسی علوم کو ایکزیکٹ سائنسز (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ سائنسی علوم تمام تر ریاضیات (mathematics) پر مبنی ہوتے ہیں۔ یورپ میں جب سائنسی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page