Al-Risala · March 2018 · page 47

امت کا انقلابی رول

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴۷

پر ہر قسم کی ترقیوں کا دروازہ کھل گیا۔

اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ تقریباً پانچ سو سال کے عمل کے دوران ایک نئی فکری گمراہی وجود میں آئی ہے، یعنی الحادی فکر کا ظاہر ہ۔ موجودہ زمانے میں مغرب کی قیادت میں سائنس کا علم وجود میں آیا، یعنی نیچر (فطرت) کے مطالعے کا علم۔ اس کے نتیجے میں وہ قوانین دریافت ہوئے جو نیچر میں ابتدائے تخلیق سے چھپے ہوئے تھے۔ پھر انسان کو ٹیکنالوجی (technology) کا علم ہوا، جس سے پانچ سو سال پہلے کا انسان بالکل بے خبر تھا۔

سائنسی علم کیا ہے ۔ یہ تخلیق (creation) میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ سائنس کے آغاز میں ایسے اسباب پیش آئے کہ انسان نے دوبارہ ایک غلطی کی ۔ اس نے فکری طور پر خالق کو تخلیق سے الگ کر دیا۔ انسان نے تخلیق (creation) کا نہایت وسیع مطالعہ کیا۔ لیکن یہ سارا مطالعہ خالق کے حوالے کے بغیر تھا۔ اس کے نتیجے میں علم کی دنیا میں ایک نئی برائی پیدا ہوئی، اور وہ تھی خالق (Creator) کو تخلیق (creation) سے الگ (detach) کر دینا۔ اب امت محمدی کے اہل علم حضرات کا یہ کام ہے کہ وہ اس غلطی کی تصحیح کریں۔ وہ دنیا کو بتائیں کہ تخلیق کوئی الگ چیز نہیں ہے، وہ خالق کے تخلیقی عمل کا نتیجہ ہے۔

یہ ایک اہم تاریخی رول ہے، جو موجودہ زمانے میں مذہبی طبقے کے لیے مقدر ہے۔ مسیحی اہل علم نے اس عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ مسیحی اہل علم نے اس موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اور مقالے تیار کر کے شائع کیے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم کتاب وہ ہے، جو سائنس کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چالیس امریکن سائنس دانوں کے مضامین پر مشتمل ہے۔ وہ کتاب یہ ہے : The Evidence of God in an Expanding Universe, edited by John Clover Monsma (G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250)

دوبارہ امت محمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس فتنہ الحاد کی فکری اساس کو بے بنیاد ثابت کریں۔ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قرآن کے ذریعہ اس فتنۂ الحاد کا خاتمہ کریں، جیسا کہ اس سے پہلے انھوں نے قرآن کی مدد سے فتنۂ شرک کا خاتمہ کیا تھا۔ اس معاملے میں ان کو مسیحی اہل علم کا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page