Al-Risala · March 2018 · page 48

شہادتِ اعظم

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴۸

احسان مند ہونا چاہیے کہ انھوں نے اس موضوع پر بقدر ضرورت ابتدائی کام انجام دے دیا ہے۔ اب امت محمدی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کام کو تکمیل تک پہنچائے، اور اسی کے ساتھ ہر زبان میں قرآن کے ترجمہ کو تیار کر کے تمام انسانوں کے لیے اس کی رسائی ممکن بنا دے۔

شہادتِ اعظم

حدیث رسول کے مطابق، تاریخ کے آخری دور میں امت مسلمہ کا فائنل رول ہوگا، جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے، یعنی مبنی برحجت دعوت حق کی ادائیگی۔ غالباً یہ شہادتِ اعظم وہی چیز ہے جس کو قرآن میں تبیینِ حق (فصلت: 53) کہا گیا ہے۔ شہادتِ اعظم، اور تبیینِ حق دونوں میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ رول حجت کی سطح پر انجام پائے گا۔ حجت (evidence) کیا ہے۔ حجت ہونا اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ اس کا دلیل ہونا فریق ثانی کے نزدیک ثابت شدہ ہو۔ جو حجت فریق ثانی کے نزدیک مسلم نہ ہو، وہ فریقین کے درمیان دلیل نہیں بن سکتی۔ دعوت کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانوں میں دعوت کے حق میں جو دلائل دیے گیے، وہ عملاً یک طرفہ تھے۔ یعنی داعی کے نزدیک وہ مسلم تھے، لیکن مدعو کے نزدیک وہ مسلم نہ تھے۔ بعد کے زمانوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ دعوت کے حق میں ایک ایسی دلیل استعمال کی جائے جو داعی اور مدعو دونوں کے درمیان یکساں طور پر مسلم ہو۔ مثلاً سائنٹفک دور سے پہلے جب داعی یہ کہتا تھا کہ رب السموات والارض صرف ایک ہے۔ تو یہ ایک ایک یک طرفہ بیان ہوتا تھا۔ دوسرے فریق کے لیے موقع تھا کہ چاہے وہ اس بیان کو مانے یا نہ مانے۔ مگر آج یہ بیان کہ رب السموات والارض یک طرفہ عقیدہ کی بات نہیں ہے، بلکہ دوطرفہ طور پر ثابت شدہ یونیورسل فیکٹ کی بات ہے۔ آج سائنٹفک مطالعے نے یہ بتایا ہے کہ پوری یونیورس ایک ہی قانون کے تحت عمل کر رہی ہے۔ اس کو ایک سائنسداں نے واحد ڈور کا نظریہ (single-string theory) کہا ہے۔ یہی وہ منصوبہ الہی ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یہاں آفاق وانفس کی آیات سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page