اہل مغرب کا کنٹری بیوشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵
اہل مغرب کا کنٹری بیوشن
ایک سروے میں یہ پوچھا گیا کہ دورِ جدید کی سب سے اہم ایجاد کیا ہے۔ ایک مغربی انسان نے اس کے جواب میں کہا کہ سائفن (siphon)۔ سائفن اس تکنیک کا نام ہے جو واش روم میں کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر اس کی گندگی کو پوری طرح صاف کر دیتا ہے: Siphon: a tube used to convey liquid upwards from a reservoir and then down to a lower level of its own accord. Once the liquid has been forced into the tube, typically by suction or immersion, flow continues unaided. سائفن صفائی کی ایک سادہ تکنیک ہے۔ لیکن پوری تاریخ میں کوئی حیوان اس کو دریافت نہ کر سکا۔ دورِ جدید میں جب عقل کا آزادانہ استعمال شروع ہوا تو انسان نے دوربین اور خوردبین سے لے کر سائفن تک بے شمار چیزیں دریافت کیں۔ ماڈرن تہذیب کو وجود میں لانے کا کام تقریباً تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا ہے۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے راقم الحروف نے یہ سمجھا ہے کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے تقسیم کار کا اصول اختیار فرمایا ہے۔ یعنی دین حق کی اشاعت کا کام اہل اسلام کی ذمہ داری قرار دیا، اور اہل مغرب کو اس معاملے میں، حدیث کے الفاظ میں تائید کا رول عطا فرمایا (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
دین خداوندی کی اشاعت کے معاملے میں اہل اسلام کا رول براہ راست رول ہے، اور اہل مغرب کا رول بالواسطہ رول۔ مگر بعض اسباب سے مسلمانوں نے اہل مغرب کو اپنا دشمن سمجھ لیا، اور ان کے خلاف مسلح یا غیر مسلح جنگ چھیڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی دعوت واشاعت کا کام انجام پانے سے رہ گیا۔ دین کی دعوت واشاعت کے لیے جن مادی چیزوں کی ضرورت تھی، ان سب کو اہل مغرب نے جدید صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ فراہم کیا۔ اب اہل اسلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل مغرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان ذرائع کو دین خداوندی کی تائید کے لیے استعمال کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues