Al-Risala · April 2018 · page 16

اجماع کی حقیقت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۱۶

اجماع کی حقیقت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں فرمایا تھا: ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسکتم بهما : كتاب الله وسنة نبيه ( موطا امام مالک ، حدیث نمبر 2618 )۔ یعنی میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، تم ہر گز گمراہ نہ ہو گے جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہو گے، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔ اس قول رسول سے یہ ثابت ہوا کہ مصدر شریعت صرف دو ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس تعداد میں اضافہ کر کے ان کو تین یا چار بنا لے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں دین کے بارے میں یہی تصور پایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں یہی دو چیزیں مصادر شریعت کی حیثیت رکھتی تھیں۔ لیکن عباسی خلافت کے زمانے میں فقہاء کا دور آیا۔ اس وقت یہ مان لیا گیا کہ قرآن وسنت کے علاوہ ایک اور مصدر شریعت بھی ہے، اور وہ مسلم علماء کا اجماع ہے ۔ فقہاء کے اس اضافے کو عام طور پر مسلمانوں کے درمیان تسلیم کر لیا گیا۔ علماء کے اجماع کو مصدر شریعت کا درجہ دینا، کلی طور پر غلط نہ تھا۔ تاہم اس اجماع کی حیثیت صرف وقتی معنی میں تھی، نہ کہ ابدی معنی میں۔ یعنی اگر مسلمانوں کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہو، اس پر کوئی واضح حکم پہلے سے موجود نہ ہو تو وہ علماء کی مجلس میں زیر بحث آئے گا۔ اس مباحثے کے بعد اگر علماء کے اتفاق رائے سے ایک بات طے ہو جائے تو اس کو اجماع امت کہا جا سکتا ہے۔ لیکن شریعت کے ابدی مصدر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک پیش آمدہ مسئلہ میں وقتی اعتبار سے شریعت کے عملی موقف کو متعین کرنے کے لیے۔ یہ پیش آمدہ مسئلے کا ایک وقتی حل ہے، وہ شریعت اسلامی کا ابدی حصہ نہیں۔ پیش آمدہ مسئلے میں اس قسم کے اجماع یا اتفاق رائے‘‘ کو وقتی معنی میں قابل اتباع سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ گنجائش یقیناً باقی رہے گی کہ بعد کو نئے حالات میں علماء کوئی نیا فیصلہ دیں۔ اس معاملے میں علماء کسی سابق اجماع“ کے پابند نہ ہوں گے۔ گویا کہ اس قسم کا اجماع پیش آمدہ مسئلہ کو حل کرنے کی ایک وقتی تدبیر ہے، نہ یہ کہ اس کو ہمیشہ کے لیے شریعت کا ایک مستقل مصدر (source) مان لیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page