Al-Risala · April 2018 · page 21

ملت ابراهیم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱

خدا کا وجود

خدا اپنی ذات کے اعتبار سے انسان کو دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن اپنی صفات کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر دکھائی دینے والی حقیقت ہے۔ جو لوگ خدا کو اس کی صفات کے اعتبار سے دیکھ لیں، وہی آنکھ والے لوگ ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ یہ کہیں کہ خدا کو اپنی ذات کے اعتبار سے ہمیں دکھاؤ، وہ بلا شبہ اندھے لوگ ہیں۔ وہ بظاہر آنکھ والے لوگ ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بے آنکھ والے ہیں۔ کیوں کہ وہ عقل رکھتے ہوئے اپنی عقل کو استعمال نہیں کر سکے۔ وہ اپنی ظاہری آنکھ کو تو کھولتے ہیں، لیکن وہ اپنی عقل کی آنکھ کو بند رکھتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں یہ بات ہر حقیقت سے زیادہ بڑی حقیقت بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں جس چیز کو سائنس کہا جاتا ہے، وہ کیا ہے۔ سائنس انسان کی عقلی آنکھ ہے۔ اس عقلی آنکھ نے موجودہ زمانے میں انسان کو وہ چیزیں دکھادی ہیں، جس کو اس سے پہلے انسان نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اب انسان اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ عالم اصغر (micro world) کو مائکرو اسکوپ کے ذریعہ دیکھے۔ جب کہ اس سے پہلے وہ انسان کے لیے مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ تھا۔ اسی طرح انسان کے لیے اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ عالم کبیر (macro world) کو عقل کی آنکھ سے دیکھے۔ وہ ٹیلیسکوپ کے ذریعہ ایسی چیزوں کو دیکھ سکے، جو پہلے اس کے لیے ناقابل مشاہدہ بنی ہوئی تھیں۔ آج مائکرو اسکوپ نے ان چیزوں کو انسان کے لیے قابل مشاہدہ بنا دیا ہے، جو پچھلے زمانے میں ناقابل مشاہدہ سمجھی جاتی تھیں۔ اسی طرح ٹیلیسکوپ نے وہ چیزیں انسان کو دکھادی ہیں، جو پچھلے زمانے میں انسان کے لیے ناقابل مشاہدہ بنی ہوئی تھیں۔ یہ واقعہ ایک سراغ (clue) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سراغ بتاتا ہے کہ یہ معاملہ خدا کو نہ دیکھنے کا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی عقل کے کم تر استعمال کا ہے۔ اگر انسان اپنی عقل کا برتر استعمال جان لے تو خدا اس کے لیے مشاہدہ کے درجے میں قابل دریافت بن جائے گا۔ وہ خدا کو اس طرح جان لے گا جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page