Al-Risala · April 2018 · page 22

کامیاب منصوبہ بندی

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲

کامیاب منصوبہ بندی

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 6 ہجری کے آخر میں مکہ کے لیڈروں سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جو حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ عام طور پر حدیبیہ کو غزوۂ الحدبیہ کہا جاتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیبیہ کے موقع پر فریقین کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی امن کا معاہدہ ہوا۔

الحدبیہ عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً درمیانی مقام پر واقع ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پروگرام کے تحت یہاں دو ہفتہ قیام کیا۔ یہاں آپ نے مکہ کے لیڈروں سے گفت و شنید (negotiation) کی۔ اس کے بعد فریقین کے درمیان دس سال کے لیے ایک نا جنگ معاہدہ (no-war pact) ہوا۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد مدینہ پہنچنے سے پہلے وہ سورہ نازل ہوئی جو فتح کے نام سے قرآن میں شامل ہے۔ اس سورہ میں حدیبیہ کے واقعہ کو فتح مبین (clear victory) بتایا گیا ہے۔

جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت اہل اسلام کو کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ ہوا تھا کہ فریقین کے درمیان امن کا معاہدہ (peace treaty) عمل میں آیا تھا۔ ایسی حالت میں اس واقعہ کو فتح مبین کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ حال کی نسبت سے نہیں، بلکہ مستقبل کی نسبت سے تھا۔ اس اعتبار سے فتح مبین کا مطلب گویا فاتحانہ منصوبہ (victorious planning) کے ہم معنی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں سے ایک اہم سنت وہ ہے جس کو فاتحانہ منصوبہ بندی کہا جاسکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ سے نکلے تھے، مکہ جانے کے لیے۔ لیکن وہ معاہدہ کے مطابق حدیبیہ سے واپس مدینہ آگئے ۔ اس لحاظ سے حدیبیہ کا واقعہ بظاہر ایک پسپائی کا واقعہ تھا۔ پھر اس کو فتح مبین کیوں کہا گیا۔ وہ اس لیے تھا کہ حدیبیہ کی بظاہر پسپائی اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فتح مبین تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page