خلاق علیم
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷
اس دریافت کے مطابق، بگ بینگ کا فلکیاتی واقعہ حیرت انگیز طور پر اس بات کا سائنسی ثبوت ہے کہ کائنات کا پیدا کرنے والا خلّاق بھی ہے اور علّام بھی۔ یعنی وہ عظیم خالق بھی ہے اور عظیم جاننے والا بھی۔ کائنات کا پیدا کرنے والا اگر خلاّق (بڑا پیدا کرنے والا) اور علّام (بڑا علم والا) نہ ہو تو کائنات کا وجود میں آنا ہی ناممکن ہو جاتا۔ خلاّق اور علّام کے الفاظ صرف پیدائش کی خبر نہیں ہے، بلکہ وہ پیدائش کے واقعہ کی دلیل بھی ہے۔
سائنس نے جس کائناتی واقعہ کو دریافت کیا ہے، وہ یہ ہے کہ تقریبا تیرہ بلین سال پہلے اچانک خلا میں ایک بہت بڑا ایٹم ظاہر ہوا اس سوپرایٹم (super atom) کے اندر وہ تمام پارٹکل موجود تھے، جن کے مجموعے سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ پھر اچانک اس سوپرایٹم میں بہت بڑا دھماکہ ہوا۔ اس عظیم دھماکے کے بعد سوپرایٹم کے تمام پارٹکل غیر معمولی تیزی کے ساتھ خلا میں دوڑنے لگے۔ ان کی رفتار (speed) بے حد تیز تھی۔ اگر پارٹکل کا یہ انتشار اسی تیزی کے ساتھ جاری رہتا تو موجودہ کائنات کا بننا ناممکن تھا۔ کیوں کہ اس کے تمام پارٹکل بے حد تیزی کے ساتھ خلا میں منتشر ہو جاتے۔ ان کا اجتماع نا ممکن ہو جاتا۔ اس لیے کائنات کا بننا بھی ناممکن ہو جاتا۔ سائنسی دریافت بتاتی ہے کہ سوپرایٹم کے پھٹنے کے بعد کچھ سیکنڈوں کے اندر پارٹکل کے انتشار کی رفتار اچانک کم ہوگئی۔ رفتار کا یہ کم ہو جانا بے حد اہم تھا۔ کیوں کہ اسی کی وجہ سے منتشر پارٹکل دوبارہ مجتمع ہونے لگے، اور ان کے اجتماع سے تمام ستارے اور کہکشائیں، اور شمسی نظام، وغیرہ، وجود میں آئے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جس ہستی نے سوپرایٹم میں یہ انفجار برپا کیا، وہ سب سے زیادہ طاقت ور ہونے کے ساتھ سب سے بڑا جاننے والا بھی تھا۔ اس واقعہ کا اس کے خالق کو پیشگی علم تھا۔ اس علم کے مطابق اس نے اس معاملے کی پلاننگ کی۔ سیکنڈ کے فریکشن میں ہونے والے اس واقعہ کا اس کو پیشگی علم نہ ہوتا تو ساری پلاننگ عبث ہو جاتی، اور کائنات کا وجود میں آنا ناممکن ہو جاتا۔ یہ سائنسی دریافت رب العالمین کے خلاّق و علّام ہونے کا ایک یقینی ثبوت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues