مسجد کا مسئلہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۲۸
مسجد کا مسئلہ
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسجد کی تعمیر ایک ابدی تعمیر ہے۔ جس مقام پر ایک بار مسجد بن جائے، وہاں وہ مسجد ہمیشہ قائم رہے گی، اُس کا وہاں سے ہٹانا جائز نہیں۔ مسجد کے بارے میں یہ مسئلہ اسلام کے بعد کے زمانے میں عباسی دور میں کچھ فقہا نے وضع کیا۔ لیکن قرآن یا حدیث میں مسجد کے بارے میں ایسا کوئی مسئلہ ہر گز موجود نہیں۔ موجودہ زمانے کے بعض علما نے اس مسئلہ کو اجتہادی مسئلہ بتایا ہے۔ یعنی ضرورت کے تحت مسجد کو اس کے سابق مقام سے ہٹایا جاسکتا ہے، اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ حنبلی فقہ واضح طور پر اس مسئلے کی تائید کرتی ہے۔ مشہور حنبلی عالم ابن قدامه (1223-1147ء) نے اپنی کتاب المغنی میں لکھا ہے: ولو جاز جعل أسفل المسجد سقاية وحوانيت لهذه الحاجة، لجاز تخريب المسجد وجعله سقاية وحوانيت ويجعل بدله مسجدا في موضع آخر (المغنی لابن قدامہ، 6/30)۔ یعنی اگر ضرورت کے تحت مسجد کے نچلے حصہ کو سقایہ (پانی کا حوض) اور دکان بنانا جائز ہے، تو مسجد کو ڈھانا اور اس کو سقایہ اور دکان بنانا بھی جائز ہے، اور اس کے بدلے میں دوسری جگہ ایک مسجد بنائی جائے گی۔
اسلام میں مسجد کی عمارت کا مسئلہ ضرورت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ تقدس کی بنیاد پر۔ جدید دور میں جب سٹی پلاننگ کا زمانہ آیا تو مسلم شہروں مثلاً مکہ، مدینہ، وغیرہ، میں بڑی تعداد میں قدیم مسجدیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل (relocate) کی گئیں۔ کیوں کہ یہ قدیم مسجدیں سٹی پلاننگ ( city planning) میں رکاوٹ ثابت ہو رہی تھیں۔ مثلاً اگر ایک مسجد بلال کے نام پر کہیں واقع تھی، تو اسی نام سے دوسری مسجد پہلے مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ پر بنا دی گئی، اور مسجد کے مقام پر شہری منصوبہ کے مطابق نئی تعمیر کی گئی۔ مسجد کی عمارت بلا شبہ ایک قابل احترام عمارت ہے۔ لیکن ضرورت کے تحت کسی مسجد کی عمارت کے مقام کو تبدیل کرنا بلا شبہ جائز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues