Al-Risala · April 2018 · page 32

مشکل حالات

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۳۲

مشکل حالات

فطرت کا ایک اصول قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرِ يُسْرًا (65:7)۔ یعنی اللہ عُسْر کے بعد عنقریب یسر پیدا کر دے گا۔ عُسْر کا مطلب ہے مشکل (difficulty)، اور یسر کا مطلب ہے آسانی (ease)۔ قرآن کی یہ آیت طلاق کے حکم کے دوران آئی ہے۔ لیکن یہ فطرت کا اصول ہے، اور اس اعتبار سے اس اصول کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔

اس اصول کے اندر ایک حکمت چھپی ہوئی ہے۔ جب آدمی کے اوپر مشکل حالات آتے ہیں، تو اس کے ذہن میں ایک دباؤ (pressure) پیدا ہوتا ہے۔ اس دباؤ کے تحت وہ زیادہ سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ معاملے کے نئے نئے پہلو اس کی سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ مشکل سے پہلے اگر وہ ایک غیر تخلیقی ذہن تھا، تو مشکل کے بعد وہ ایک تخلیقی ذہن (creative mind) بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ زیادہ اہلیت کے ساتھ صورتِ حال کا سامنا کرے ۔ وہ زیادہ بہتر طور پر مواقع (opportunities) کو دریافت کر سکے۔

اس اصول کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ گھر کی زندگی، سماج کی زندگی، اور وسیع تر معنوں میں قومی اور بین اقوامی زندگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل کی حیثیت انسانی زندگی میں معلم کی ہے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ مشکل انسان کو انسان بناتی ہے:

It is not ease but effort, not facility but difficulty that makes men. فطرت کا نظام اس طرح بنا ہے کہ انسان کو کبھی اپنی مرضی کے مطابق بالکل آسان حالات نہ ملیں ، اس کو مشکلات کی جھاڑیوں سے گزرنا پڑے۔ یہ صورتِ حال انسان کی شخصیت کی تعمیر کرنے کے لیے ہے۔ یہ صورتِ حال ایک انسان کو غیر پختہ شخصیت (immature personality) کے بجائے پختہ شخصیت (mature personality) بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page