ختم نبوت کا عقیدہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۳۳
ختم نبوت کا عقیدہ
ختم نبوت کا عقیدہ فضیلت کا عقیدہ نہیں ہے۔ اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ عدد (number) کی تکمیل کا نام نہیں ہے۔ ختم نبوت کے عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت باعتبار رہنمائی قیامت تک جاری رہے گی۔ نبوت محمدی کا تسلسل باعتبار رہنمائی غیر منقطع طور پر اور مسلسل طور پر قیامت تک قائم رہے گا۔ یہ تسلسل ختم نبوت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر پیغمبرانہ رہنمائی کا تسلسل ٹوٹ جائے تو اللہ کے قانون کے مطابق نئے پیغمبر کا آنا لازم ہو جائے گا، اور اب کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں۔
البتہ ایک چیز کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی، اور وہ ہے مخاطب کی نسبت سے پیغمبرانہ رہنمائی کی تفہیم۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانہ میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ لوگوں کا فکری اسلوب بدلتا رہتا ہے۔ اس بنا پر ضرورت ہوتی ہے کہ ہر زمانہ کے مخاطبین کے لیے پیغمبرانہ رہنمائی کو قابل فہم بنایا جائے تا کہ ان کا ذہن ایڈریس ہو۔ یہ کام تفہیم و تشریح کا کام ہے، نہ کہ کسی قسم کے اضافہ کا کام۔ مثال کے طور پر پیغمبرانہ ہدایت میں ایک تصور توبہ (repentance) کا ہے۔ تو بہ کا لفظی مطلب ہے لوٹنا، رجوع کرنا۔ دوسرے لفظوں میں پٹری سے اترنے (derailment) کے بعد دوبارہ پٹری پر واپس لانا۔ اگر کوئی شخص اس معاملے کو ان الفاظ میں بیان کرے کہ تو بہ کا مطلب ہے فرسٹ چانس کھوئے جانے کے بعد سیکنڈ چانس کو اویل (avail) کرنا۔ تو یہ ایک تفہیم کے اسلوب کی بات ہوگی۔ اس کا مقصد یہ ہوگا کہ مخاطب کا ذہن ایڈریس ہو، اور اس کے اندر عمل کی آمادگی پیدا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ کسی گم شدہ کڑی سے لوگوں کو دوبارہ باخبر کیا جائے۔ یہی دین کی تجدید ہے۔ تجدید کا مطلب ہے نیا کرنا۔ نیا کرنے کا یہ عمل ریفارمیشن (reformation) کا عمل ہے۔ یہ دین کی وضاحت کرنے کا عمل ہے۔ تجدید دین سے مراد تفہیم دین کی تجدید ہے، نہ کہ خود دین کی تجدید۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues