Al-Risala · April 2018 · page 42

مس ایڈونچرزم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۴۲

مس ایڈونچرزم

انسان فطری طور پر با ہمت (adventurist) پیدا ہوا ہے۔ اگر آدمی ہمت والا نہ ہو تو وہ کوئی اقدام نہیں کرے گا، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ کوئی کام اپنی زندگی میں نہیں کر پائے گا۔ فطرت (nature) آدمی کو ابھارتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کسی کام میں لگائے۔ وہ کچھ کرنے والا بنے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو مفید کام میں لگائے۔

اس جذبہ کی بنا پر آدمی فطری طور پر ایڈونچرسٹ (adventurist) بن جاتا ہے۔ وہ اقدام کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ ایڈونچرزم بہت آسانی سے مس ایڈونچر زم بن جاتی ہے، اور پھر آدمی کے حصہ میں فائدہ کے بجائے نقصان آتا ہے۔ ایڈونچر اور مس ایڈ وینچر کے درمیان ایک باریک لائن (thin line) ہے، جو ایک دوسرے کو جدا کرتی ہے۔ وہ یہ کہ ایڈونچرزم ہمیشہ ویل کیکولیٹڈ (well-calculated) ہونا چاہیے، نہ کہ محض جوش کے تحت کیا ہوا اقدام عمل۔ جوش کے تحت کیا ہوا اقدام ہمیشہ ناکام ہوتا ہے، اور ویل کیکولیٹڈ (well-calculated) اقدام ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔

ضروری ہے کہ آدمی کے اندر جوش کے ساتھ عقل بھی ہو۔ وہ اقدام کے جذبے کے تحت یہ بھی جانے کہ کیا چیز اس کے لیے قابل حصول ہے، اور کیا چیز اس کے لیے قابل حصول نہیں۔ کیا چیز اس کے بس کی ہے، اور کیا چیز عملاً اس کے بس سے باہر ہے۔ کسی بھی کام میں پیشگی طور پر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا چیز آدمی کے لیے ممکن العمل (possible) ہے، اور کیا چیز نہیں۔ کسی آدمی के لیے بہترین عقل مندی یہ ہے कि वह ऐसा काम करे, जो उस के बस का काम हो। جو کام اس के बस का ना हो, इस को करने से बेहतर है कि آدمی सिरे से काम ही ना करे। काम ना کرنے से जो चीज़ पेश आती है, वह صرف की है। लेकिन जोश के तहत कूद पड़ना, इस से ज्यादा गलत है, और वह है— ना काबिल तलाफी नुकसान।

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page