Al-Risala · April 2018 · page 43

مس ایڈونچرزم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۴۳

سوال و جواب سوال ایک سوال یہ ہے کہ آج کے اس پر فتن دور میں جبکہ مسلمان فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر فرقہ اپنے کو حق پر ہونے کا دعوی کرتا ہے ہمیں کس منہج پر چلنا چاہیے؟ (محمد عمر خالد) جواب اس سوال کا جواب راقم الحروف کی کتاب تجدید دین میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں مختصر اس سوال کا جواب درج کیا جاتا ہے۔ فرقہ بندی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب مبنی بر فارم انتہا پسندی ہے۔ دین، مثلاً نماز کا ایک فارم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی ایک اسپرٹ ہے۔ اسپرٹ ایک ہے، اور وہ ہمیشہ ایک رہے گی۔ یہ اسپرٹ تقویٰ اور خشوع ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: التقویٰ ہاہنا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)۔ یعنی تقویٰ دل میں ہے۔ اسی طرح قرآن میں آیا ہے: الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (23:2)۔ عبادت میں اگر اسپرٹ پر زور دیا جائے تو کبھی فرقہ بندی پیش نہیں آئے گی۔ کیوں کہ اسپرٹ ایک ہے، وہ ہمیشہ ایک ہی رہے گی۔ اس کے برعکس، فارم میں تعدد ہے۔ یعنی روایتوں میں کسی عبادت کے کئی فارم بتائے گئے ہیں۔ یہ تعدد سب کے سب جزئی امور میں ہیں۔ اس لیے فارم میں زور دینے سے ہمیشہ تعدد پیدا ہو جائے گا۔ اس بنا پر فارم کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس معاملے میں تنوع کو درست سمجھا جائے۔ مثلاً کوئی شخص نماز میں آمین بالسّر کا طریقہ اختیار کرے تب بھی درست، اور کوئی شخص نماز میں آمین بالجہر کا طریقہ اختیار کرے تب بھی درست۔

فرقہ بندی فارم پر زور دینے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ کوئی ایک فارم کو درست سمجھتا ہے، کوئی دوسرے فارم کو۔ اس طرح عبادت کے کئی طریقے بن جاتے ہیں۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ عبادت کے معاملے میں بنیادی فارم میں تو حد کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور عبادت کے فروعی اجزاء میں تنوع کا طریقہ۔ مثلاً نماز کی رکعت میں تو حد، اور حالت قیام میں ہاتھ باندھنے میں تنوع۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page