Al-Risala · May 2018 · page 4

روزہ برائے ترک

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۴

روزہ برائے ترک

روزہ کے بارے میں ایک حدیث قدسی آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: روزہ (صوم)

میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ روزہ دار میرے لیے اپنی شہوت کو چھوڑتا ہے۔ وہ میرے لیے اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑتا ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی جب کہ وہ روزہ کھولتا ہے، اور دوسری خوشی جب کہ وہ اپنے رب سے ملے گا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7492)۔

روزہ کی اصل اہمیت اس کی اسپرٹ میں ہے، نہ کہ اس کے فارم میں۔ روزہ کی حقیقت ترک (چھوڑنا) ہے۔ روزہ میں روزہ دار یہ کرتا ہے کہ وہ مخصوص اوقات میں عارضی طور پر کھانا اور پانی چھوڑ دیتا ہے۔ اس چھوڑنے کے عمل کا اللہ کے یہاں بہت بڑا درجہ ہے۔ بشرطیکہ یہ چھوڑ نا خالص اللہ کے لیے ہو۔ روزہ میں کھانے اور پینے کا ترک علامتی ترک ہے۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ روزہ دار اپنی عادت کو یا اپنی کسی محبوب چیز کو اللہ کے خلاف سمجھ کر چھوڑ دے۔ سچا روزہ دار وہ ہے جو رمضان کے مہینہ میں یہ طے کرے کہ وہ اپنی قابل ترک عادتوں کو دریافت کرے گا۔ اور ہر دن کم از کم ایک عادت کو اللہ کے لیے چھوڑ دے گا۔ یہ گویا اللہ کے لیے ایک خود انضباطی (self discipline) کا معاملہ ہے۔

اس خود انضباطی کے عمل میں چھوڑنے کی بہت سی چیزیں ہیں۔ مثلاً ایک سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق دوسروں سے بیان کرنا۔ مجلس میں ہنسنا اور مذاق اڑانا۔ ایک آدمی بول رہا ہو تو اس کی بات ختم ہونے سے پہلے بولنا۔ وعدہ کرنے کے بعد اس کو پورا نہ کرنا۔ غیر سنجیدہ گفتگو کرنا۔ منفی رویہ اختیار کرنا۔ ایک دوسرے پر فخر کرنا۔ بات چیت میں بے احتیاطی کا انداز اختیار کرنا۔ دسترخوان پر کھانا اور پانی چھوڑنا۔ تکلف کا طریقہ اختیار کرنا۔ دھکا دے کر آگے بڑھنا۔ دلیل کے بجائے عیب جوئی کی زبان بولنا۔ زیادہ بولنا یا زور زور سے بولنا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page