Al-Risala · May 2018 · page 5

رزق پلس

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۵

رزق پلس

قرآن میں روزے کا حکم سورہ البقرۃ کی آیات 187-183 میں آیا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں روزے کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ مثلاً مشکوۃ المصابیح میں کتاب الصوم کے تحت جو حدیثیں آئی ہیں ، ان کی تعداد 152 ہے، اور ابو بکر انفر یابی کی کتاب الصیام میں ایسی احادیث کی تعداد 192 ہے۔ رمضان کے روزوں کے بارے میں ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کا ایک جزء یہ ہے: وَشَهْرٌ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ (صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 1887) یعنی اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ رزق بڑھانے سے مراد مادی رزق بڑھانا نہیں ہے، بلکہ روحانی رزق (spiritual food) بڑھادینا ہے۔ رمضان میں مومن وہی رزق لیتا ہے، جو رزق وہ عام مہینوں میں لیتا ہے۔ لیکن نفسیاتی اعتبار سے رمضان کا رزق مومن کے لیے رزق پلس (Rizq Plus) بن جاتا ہے۔

حضرت مریم کے جس رزق پر حضرت زکریا کو تعجب ہوا تھا، وہ یہی رزق پلس (آل عمران، 3:37) تھا۔ یعنی بظاہر حضرت مریم کا رزق وہی تھا، جو دوسرے تمام لوگوں کو ملتا ہے۔ لیکن حضرت مریم کی روحانی ترقی (spiritual development) کی بنا پر ان کا رزق، رزق پلس بن جاتا تھا۔ یعنی رزق کو لیتے ہوئے ان کے اندر ربانی خیالات جاگتے تھے۔ شکر الہی کے نئے نئے آئٹم ان کے ذہن میں پیدا ہوتے تھے۔ اس بنا پر ان کی زبان سے ذکر اور دعا کے نئے نئے کلمات ادا ہوتے تھے۔ اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اس کی تفسیر یہ کردی کہ موسم سرما میں موسم گرما کے پھل، اور موسم گرما میں موسم سرما کے پھل۔

رمضان کا رزق ایسے انسان کے لیے رزق پلس بن جاتا ہے، جو رمضان سے پہلے اللہ کی یاد اور اللہ کے شکر میں جیتا ہو، ایسا آدمی گویا بیدار آدمی ہے۔ اس کی بیداری اس کے لیے رمضان کے رزق میں نئے ربانی پہلو کا اضافہ کر دیتی ہے۔ یہی مطلب ہے رزق کے رزق پلس ہونے کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page