Al-Risala · May 2018 · page 8

حجت کا دور

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۸

حجت کا دور

حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک بڑا فتنہ ظاہر ہوگا۔ اس کے قائد کو حدیث میں دجال کا نام دیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو، صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937، وابوداؤد، حدیث نمبر 4321، سنن الترمذی، حدیث نمبر 2240، سنن النسائی الکبریٰ، حدیث نمبر 10717، سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 4075، مسند احمد، حدیث نمبر 17629، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7644 وغیرہ۔ ایک روایت میں دجال کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: اِنْ يَخْرُجْ وَاَنَا فِیْكُمْ، فَأَنَا حَجِیجُهُ دُوْنَكُمْ، وَاِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيْكُمْ، فَأَمْرُ و حَجِیجُ نَفْسِہِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937)۔

ان روایتوں میں کہا گیا ہے کہ دجال کا مقابلہ حجیج کرے گا۔ اگر دجال رسول اللہ کے زمانے میں ظاہر ہوگا، تو خود رسول اللہ اس کے مقابلے میں حجیج ہوںگے، اور اگر وہ بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگا تو امت کا کوئی فرد اس کے مقابلے میں حجیج ہوگا، اور دجال کو حجت کی سطح پر مغلوب کرے گا۔ حج یحج کا معنی ہے حجت سے غالب آنا۔ اس کا اسم فاعل ہے حجیج۔ اس کا مطلب ہوتا ہے حجت میں غالب آنے والا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال دور حجت (age of reason) میں ظاہر ہوگا۔ دجال دور سیف (age of sword) کا فتنہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ دور حجت (age of reason) کا فتنہ ہوگا۔

دجال کے بارے میں جو روایتیں ہیں، وہ زیادہ تمثیل کی زبان میں ہیں۔ ان روایتوں کو سمجھنے کے لیے ضرورت ہے کہ تمثیل کی زبان کو تعیین کی زبان میں بدلا جائے۔ اس کام کا اصول کیا ہوگا۔ وہ اصول یہ ہوگا کہ دور حجت کا مطالعہ کیا جائے، اور دور حجت کے احوال کے اعتبار سے احادیث کی تشریح کی جائے۔

مثلاً دجال کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ وہ اعور ہوگا۔ اعور کا لفظی مطلب ہوتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page