حجت کا دور
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۹
یک چشم یعنی ایک آنکھ والا (one-eyed) ۔ لیکن اس سے مراد وہ انسان ہے جو لوگوں کو بری رہنمائی دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کی اصل صفت یہ ہوگی کہ وہ لوگوں کے ساتھ غلط رہنمائی (mislead) کا معاملہ کرے گا۔ چوں کہ غلط رہنمائی کا عمل وہ نہایت ہوشیاری کے انداز میں انجام دے گا، لوگ اس کی غلط رہنمائی کو صحیح رہنمائی سمجھ لیں گے، اس لیے اس کو حدیث میں دجال (the Great Deceiver) کہا گیا ہے۔
یہ بات کہ دجال کا ظہور دورِ حجت میں ہوگا۔ اس میں ان لوگوں کے لیے رہنمائی ہے جو دجال کے مقابلے کے لیے نکلیں۔ ان کو جاننا چاہیے کہ دجال کا مقابلہ نہ تلوار سے ہوگا، اور نہ بندوق (gun) سے ہوگا۔ بمباری یا خودکش بمباری (suicide bombing) بھی دجال کے مقابلے کے لیے بالکل کارآمد نہ ہوگی۔ دجال کا کامیاب مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس زمانے کے لوگ حجت کی زبان سیکھیں۔ تا کہ وہ اسی زبان میں دجال کا مقابلہ کر سکیں، جس زبان میں دجال لوگوں کو گمراہ کر رہا ہوگا۔ تاریخ کے دوسرے فتنوں کے مقابلے میں یہ ایک مختلف فتنہ ہوگا۔ قدیم دور کے تمام فتنے، تشدد (violence) کے فتنے تھے۔ قدیم دور کے اربابِ فتنہ تشدد کے ہتھیار کے ذریعے لوگوں کو مغلوب کرتے تھے۔ لیکن بعد کے زمانے میں ظاہر ہونے والا یہ فتنہ حجت (reason) کے ذریعہ گمراہ کرے گا۔ ایسی حالت میں جو لوگ حجت کے ذریعے دجال کے فریب میں مبتلا ہوں، ان کو دجالی فریب سے نکالنے کے لیے دوبارہ حجت یعنی عقلی استدلال کا طریقہ استعمال کرنا ہوگا۔
اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ ان لوگوں کی خصوصی مدد کرتا ہے، جو اللہ کے دین کی مدد کے لیے اٹھیں (الحج، 22:40)۔ اللہ کی یہ مدد یقینی طور پر اس نسبت سے آتی ہے، جس نسبت سے عمل مطلوب ہے۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو دجالی فتنے کے زمانے میں جو مقابلہ ہوگا، وہ مبنی بر عقل (reason-based) مقابلہ ہوگا۔ اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ دجالی فتنے کے زمانے میں اللہ تعالیٰ ایسے دلائلِ عقلی کا ظہور فرمائے، جس کی مدد سے اہل ایمان دجالی فتنے کا کامل خاتمہ کر سکیں۔