Al-Risala · May 2018 · page 11

امت کا رول

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱

امت کا رول

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) اتارا تا کہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والا بنے۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیلے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والے ہر مرد اور ہر عورت تک پہنچ جائے گا۔

یہی بات حدیث رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے : لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ، بِعِزّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيلِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ، ذلت والے کو ذلت کے ساتھ۔ (یعنی اسلام کا پیغام ماننے والوں تک بھی اور نہ ماننے والوں تک بھی)۔

یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتا رہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہر گوشے میں پہنچادے، یہاں تک کہ کوئی عورت یا مرد اس سے بے خبر نہ رہے۔ اس حدیث میں کلمۃ الاسلام سے مراد قرآن ہے۔ قرآن کو ہر انسان تک پہنچانا کسی پر اسرار طریقے پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ دوسرے واقعات کی طرح اسباب کے ذریعے ہوگا۔ بعد کے دور میں ایسے اسباب انسان کے دسترس میں آئیں گے جن کو استعمال کر کے امت خدا کی کتاب کو تمام انسانوں تک پہنچادے۔

قرآن کو سارے عالم تک پہنچانا ایک ایسا کام ہے جو امت مسلمہ محض اپنی طاقت سے نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page