Al-Risala · May 2018 · page 10

دعوت کیا ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۰

دعوت کیا ہے

دعوت کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں جو سچائی بیان کی گئی ہے، اس کو دوسروں تک پہنچانا۔ مگر پہنچانے کا مطلب صرف پہنچانا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ جو بات کہی جائے، وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِيْ أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيْغًا (4:63)۔ یعنی ان کو اس طرح بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔ اس طرح دعوت میں ایک اور عنصر شامل ہو جاتا ہے، اور وہ ہے مدعو کے ذہن کی رعایت۔

اگر آپ دعوت کا کام اس طرح کریں کہ قرآن وحدیث میں جو بات کہی گئی ہے، خود اپنے ذہن کے مطابق، اس کی شرح کر دیں تو یہ حقیقی معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہوگا۔ کوئی کلام اس وقت دعوت بنتا ہے، جب کہ آپ اپنی دعوت میں دو تقاضوں کو پورا کریں۔ ایک یہ کہ آپ قرآن وسنت کا مطالعہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ کریں، اور اس کا مدعا بے کم و کاست انداز میں جاننے کی کوشش کریں، اور پھر اس کو تقریر یا تحریر کے ذریعہ مخاطب کے سامنے بیان کریں۔

مگر مطلوب دعوت کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے۔ مطلوب دعوت وہ ہے، جس میں داعی غیر جذباتی انداز میں مدعو کے ذہن کو سمجھنے کی کوشش کرے، اور پھر مدعو کے ذہن کو ایڈریس کرنے والے انداز میں خیر خواہانہ طور پر اس کو اپنا مخاطب بنائے۔ دعوت اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے دوسری تحریکوں کی طرح ایک تحریک ہے۔ مگر دعوت اور دوسری تحریکوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ دوسری تحریکیں عام طور پر رد عمل کے ذہن کے تحت چلائی جاتی ہیں۔ یعنی سماج میں کوئی چیز نظر آئی جو دیکھنے والوں کے لیے بظاہر غلط تھی۔ اس پر دیکھنے والوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا، اور یہ رد عمل دھیرے دھیرے ایک تحریک بن گیا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو تمام تحریکیں عملاً رد عمل کی تحریکیں ہوتی ہیں۔ لیکن دعوت کی تحریک کسی بھی درجے میں رد عمل کی تحریک نہیں ہے۔ دعوت داعی کی طرف سے نصح (well-wishing) کا اظہار ہے، اور بس۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page