پیغمبر کا نمونہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵
(المدثر، 5-74) سے کامل پر ہیز۔ ہر پیغمبر نے بنیادی طور پر اسی ماڈل کی پیروی کی۔ البتہ حالات کے اعتبار سے ہر ایک کا انطباق (application) مختلف تھا۔ ان کے درمیان ظاہری فرق کو نظر انداز کیا جائے تو ہر پیغمبر کا ماڈل اصولی طور پر ایک نظر آئے گا۔
رُجز (المدثر، 74:5) کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ رُجز کا لفظ یہاں مشن کی نسبت سے آیا ہے۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو یہاں ترکِ رُجز کا مطلب یہ ہے کہ نزاعی طریقہ (confrontational method) سے پرہیز کرو اور اپنے کام کے سلسلے میں ہمیشہ غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational method) اختیار کرو۔ رُجز کا یہ مفہوم ایک روایت پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔ ایک روایت میں آپ کے بارے میں بتایا گیا ہے: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملے میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا، جن میں سے ایک دوسرے سے آسان ہوتا تو آپ نے آسان طریقہ چنا۔ آسان طریقہ کیا ہے، اور مشکل طریقہ کیا ہے۔ آسان طریقہ وہ ہے جو مسئلے کو مسئلے تک محدود رکھے۔ اس کے مقابلے میں مشکل طریقہ وہ جو اصل مسئلہ میں دوسرے مسئلے کا اضافہ کر دے۔ مثلاً یہ بات واضح ہے کہ توحید کا داعی اگر دعوت کے ساتھ ٹکراؤ کا طریقہ شامل کر لے تو یقیناً بات بڑھے گی۔ اب پسِ گفت و شنید کے ساتھ ٹکراؤ اور تشدد کی صورتیں شروع ہو جائیں گی۔ اس طرح پر امن مشن ڈی ریل (derail) ہو کر ایسے راستوں پر چل پڑے گا جہاں اصل مقصد گم ہو جائے گا، اور تعمیر کے بجائے تخریب کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے پیغمبروں کے حالات قرآن وحدیث سے معلوم ہوتے ہیں، اس سے اس اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔
پیغمبر کا نمونہ
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جتنے بھی پیغمبر آئے ان سب کا مشن ایک تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ