Al-Risala · May 2018 · page 16

پیغمبر کا نمونہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۶

(21:25)۔ یہ تمام مقامات جہاں اللہ کے پیغمبر آئے۔ ان میں سے ہر ایک مقام میں شرک کے مراکز، بت خانوں کی صورت میں موجود تھے۔ لیکن تمام پیغمبروں نے دو چیزوں میں فرق کیا۔ انھوں نے ہر جگہ لوگوں کو پر امن طور پر توحید کی اصولی دعوت پیش کی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے شرک کے مراکز (centres of shirk) کے ساتھ عملی ٹکراؤ سے کامل طور پر پرہیز کیا۔ یہ گویا ڈی لنکنگ کی پالیسی (policy of delinking) تھی۔ یعنی توحید کی طرف لوگوں کو پرامن انداز میں بلانا اور اسی کے ساتھ اہل اقتدار سے عدم ٹکراؤ کی پالیسی پر شدت کے ساتھ قائم رہنا۔

یہی طریقہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی تھا۔ آپ کی بعثت ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں ہوئی۔ اس وقت مکہ کا یہ حال تھا کہ کعبہ کی عمارت کو عملاً بت پرستی کا مرکز بنا دیا گیا تھا، اور اس کا انتظام قبائلی پارلیمنٹ (دار الندوہ) کے تحت کیا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منظر کو دیکھا، مگر اس سے عملی طور پر کامل اعراض کرتے ہوئے، آپ نے توحید کی پرامن دعوت لوگوں کے درمیان شروع کردی۔

☆☆☆☆☆

ماضی اور حال کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہر انسان آخر کار احساسِ خسران میں مرتا ہے۔ کوئی شخص دولت کماتا ہے، کوئی عزت حاصل کرتا ہے، کوئی سیاسی اقتدار پر قبضہ کرتا ہے، کوئی لیڈر بن کر ابھرتا ہے، لیکن ہر شخص اپنی مطلوب منزل پر پہنچنے سے پہلے مرجاتا ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں خوشیوں کی ایک دنیا بسی ہوئی ہے۔ وہ اس کو پانے کے لیے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ مگر ہر آدمی کا خاتمہ آخر کار اس احساس کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مطلوب دنیا کو نہ پاسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی کی خواہشات لامحدود ہیں۔ مگر موجودہ دنیا ایک محدود دنیا ہے۔ اس محدود اور غیر معیاری دنیا میں لامحدود قسم کی معیاری خوشی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ طالب اور مطلوب کے درمیان یہی فرق خسران کا اصل سبب ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی مطلوب دنیا موت کے بعد کے دورِ حیات میں رکھ دی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی تیاری کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page