Al-Risala · May 2018 · page 22

دعا کی حقیقت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲

آپ اللہ سے بہت زیادہ دعائیں کرتے تھے۔ اس کا ثبوت قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا (17:80)۔ یعنی اور کہو کہ اے میرے رب، مجھ کو داخل کر سچا داخل کرنا اور مجھ کو نکال سچا نکالنا۔ اور مجھ کو اپنے پاس سے مددگار قوت عطا کر۔ یہ دعا قبول ہوئی، لیکن الفاظ کی صورت میں نہیں، بلکہ واقعات کی صورت میں۔

اس زمانے میں ہجرت سے تقریباً دو مہینہ پہلے وہ واقعہ ہوا، جو بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ بظاہر دعا کے جواب کے طور پر پیش نہیں آیا۔ مگر یہ وہی چیز تھی جس کو قرآن میں ریح (یوسف، 12:94) کہا گیا ہے۔ یعنی اس موقع پر آپ کو یہ انسپریشن ملا کہ تمھاری دعا نہایت اعلیٰ صورت میں قبول ہونے والی ہے۔ پیغمبر اسلام نے مدخل ومخرج کی دعائیں کی، لیکن اسی کے ساتھ آپ خصوصی طور پر تقویٰ اور صابرانہ روش کے ساتھ درجہ احسان پر قائم رہے۔ آپ نے اس معاملے میں خدائی ریح پر بھروسہ کیا۔ یہاں تک کہ نبوت کے تیرھویں سال ہجرت مدینہ کا واقعہ پیش آیا۔ جو اسلام کی تاریخ کے لیے ایک بڑا انقلابی مرحلہ (breakthrough) ثابت ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے کچھ پہلے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبَ، وَهِيَ المَدِينَةُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)۔ یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، وہ مدینہ ہے۔ دعا کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3371)۔ یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دعا حکمت (wisdom) کا خزانہ ہے۔ دعا کا خزانہ خدا کی دوسری رحمتوں کی طرح عام ہے۔ لیکن اس خزانہ دعا یا اس خزانہ رحمت سے صرف اس شخص کو حصہ ملتا ہے، جو محسن ہو۔ یعنی تقویٰ اور صبر کے مطلوب معیار پر قائم رہے۔ ☆☆☆☆☆ ایمان باللہ وہ ہے جو کسی کو معرفت کی سطح پر ملے، نہ کہ محض تقلید کی سطح پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page