Al-Risala · May 2018 · page 21

دعا کی حقیقت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱

بات کے ایک پہلو کا ذکر ایک مقام پر ہوتا ہے، اور اُس کے دوسرے پہلو کا ذکر دوسرے مقام پر۔ مثلاً قرآن میں قصہ آدم کے تحت یہ بتایا گیا ہے کہ آدم نے غلطی کرنے کے بعد جب توبہ کی، تو ان کی توبہ قبول ہوئی، اور دعا کے الفاظ بھی ان کو تلقین کیے گئے۔ مگر یہ دونوں بات ایک جگہ موجود نہیں۔ مثلاً سورہ البقرہ آیت 37 میں توبہ کا ذکر ہے۔ لیکن جہاں تک الفاظ دعا کا تعلق ہے، وہ دوسرے مقام پر سورہ الاعراف آیت 23 میں بتائے گئے ہیں۔

یہی اسلوب قرآن کی مذکورہ آیت میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب ریح (يوسف، 12:94) کی صورت میں ملتا ہے۔ ریح کے لفظی معنی خوشبو (fragrance) کے ہیں۔ یہاں ریح کا لفظ سادہ طور پر مہک کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اچھی خبر (good news) ہے۔ یہ حضرت یعقوب کو انسپریشن (inspiration) کی صورت میں آئی تھی۔ یعنی ان کو یہ انسپریشن آتا تھا کہ خدا ان کی دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا، بلکہ یوسف کو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔ یوسف کے بھائیوں نے یوسف کواندھے کنوئیں میں ڈال دیا تھا، لیکن اللہ نے ان کو مخصوص انتظام کے تحت مصر کے تخت پر پہنچا دیا۔ دعا کی یہ قبولیت ہر انسان کے لیے مقدر ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے۔ وہ شرط قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : إِنَّهُ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (12:90)۔ یعنی جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی یہ خصوصی نعمت اس انسان کو ملتی ہے، جو احسان کے درجے میں اس کا استحقاق ثابت کرے۔ یعنی ہمیشہ اللہ سے پرامید رہے، اور ہر حال میں وہ صابرانہ انتظار کی روش پر قائم رہے۔

اس معاملے کی ایک مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ وہاں کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا، لیکن اکثریت آپ کی مخالف بن گئی۔ آخر کار یہ واضح ہو گیا کہ آپ کو مکہ چھوڑنا پڑے گا۔ اس زمانے میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page