Al-Risala · May 2018 · page 25

اسلامی روحانیت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۵

اسلامی روحانیت

اسلامی روحانیت اپنی حقیقت کے اعتبار سے تخلیقی روحانیت (creative spirituality) کا نام ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل ایسے مومن کی ذہنی پیداوار ہے، جو مسلسل تدبر کے ذریعہ اس قابل ہوگیا ہو، جو روحانی آئٹم (content of spirituality) کو چیزوں سے دریافت کر سکے، اور اس طرح اپنی روحانیت کو ترقی یافتہ روحانیت بنائے۔

قرآن میں اس عمل کو شہد کی مکھی کے عمل کی مثال سے واضح کیا گیا ہے (النحل، 16:68)۔ شہد کی مکھی پھولوں کے اندر موجود نیکٹر (nectar) کو نکالتی ہے، اور اس کے مجموعے سے وہ انوکھی چیز بناتی ہے، جس کو شہد کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ ترقی یافتہ انسانی ذہن کا ہے۔ اس معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔

یہاں قرآن میں آیت سے مراد روحانی نیکٹر (nectar of spirituality) ہے۔ مومن کا تیار ذہن جب زمین و آسمان کو دیکھتا ہے تو وہ بار بار چیزوں میں چھپے ہوئے روحانی نیکٹر کو دریافت کرتا ہے، اور پھر اس کو اخذ کر کے اپنی فکری ارتقا کا ذریعہ بناتا ہے۔ اس طرح اس کے اندر ایک روحانی شخصیت جاگتی ہے۔ اس طرح اس کی سوچ ترقی کرتے کرتے اس کو ایک ترقی یافتہ شخصیت (developed personality) بنا دیتی ہے۔

زمین و آسمان کے اندر یہ روحانی نیکٹر مادی صورت میں نہیں ہے، جیسا کہ شہد کی مثال میں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ امکان (potential) کے روپ میں ہے، جو دریافت کے ذریعہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ شہد کی حیثیت مادی نیکٹر کی ہے، اور روحانی آئٹم کی حیثیت توسم کے ذریعہ اخذ کردہ اسپرپچول وزڈم (spiritual wisdom) کی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page