الرساله مشن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۶
الرساله مشن
الرساله مشن کے تعلق سے میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں الرساله مشن کی سب سے بڑی ڈسکوری کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ مائنڈ بیسڈ معرفت، اور پیس بیسڈ ایکٹوزم۔ لیکن میرا خیال ہے کہ الرساله مشن کی سب سے بڑی ڈسکوری ہے: منصوبہ تخلیق کے مطابق دین کی صحیح تعبیر پیش کرنا۔ پہلی دونوں باتیں اس کی عملی شکلیں ہیں، اقدام کی دنیا میں عملی طور پر یہ دونوں بڑی ڈسکوری ہیں۔ مولانا اس پر کچھ تبصرہ فرمائیں۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو) میں کہوں گا کہ میری سب سے بڑی ڈسکوری اللہ کی دریافت ہے۔ اللہ کی دریافت سے مراد اللہ کو حی و قیوم کی حیثیت سے شعوری طور پر جان لینا۔ میرے علم کے مطابق اس ڈسکوری میں شاید میں اکیلا ہوں۔ اگر آپ کو اس کا تجربہ کرنا ہے تو آپ دنیا کے کسی بڑے عالم کی مجلس میں ایک گھنٹہ بیٹھیے اور دیکھیے کیا آپ کو اس مجلس میں خدا کا زندہ تذکرہ ملتا ہے، یا پھر کسی کتب خانہ میں جاکر تلاش کیجیے کہ کیا کسی شخص نے اللہ رب العالمين کے وجود پر کوئی قابل ذکر کتاب لکھی ہے۔ کیا آپ کسی ایسی تحریک کو جانتے ہیں، جس کا مرکز ومحور صرف اللہ ہو۔ میرے علم کے مطابق لوگ اللہ پر رسمی عقیدہ تو رکھتے ہیں، لیکن انھوں نے شعوری طور پر اللہ رب العالمين کو ایک زندہ حقیقت کی حیثیت سے دریافت نہیں کیا۔
اللہ کی دریافت ایک چیز کی دریافت نہیں ہے، بلکہ اللہ کی دریافت تمام چیزوں کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو اللہ کی دریافت ہو جائے، اس کو زندگی کا سرامل جائے گا۔ وہ زندگی کی حقیقت کو گہرائی کے ساتھ جان لے گا۔ اس کو زندگی کے آغاز اور زندگی کے انجام کی معرفت ہو جائے گی۔ وہ ہر چیز کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ اس کو معرفت کا وہ سرامل جائے گا، جس کی روشنی میں وہ تمام چیزوں کو ایز اٹ از (as it is) دیکھنے کے قابل ہو جائے گا۔ اللہ کی دریافت سے پہلے انسان نہ اپنے آپ کو حقیقی طور پر جانتا ہے، اور نہ بقیہ کائنات کو۔ وہ نہ تاریخ کو جانتا