الرساله مشن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷
ہے، اور نہ تعبیر تاریخ کو۔
میری ڈسکوری کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے میں ایک مثال دیتا ہوں۔ ساری دنیا کے مسلمان یہ جانتے ہیں کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو رحمتہ للعالمین (الانبیاء، 21:107) بنا کر بھیجا۔ اس عقیدہ کو لے کر ساری دنیا کے مسلمان رسول اللہ کی نعت خوانی کر رہے ہیں، نثر میں بھی اور نظم میں بھی۔ قرآن میں جس چیز کو رحمتہ للعالمین کہا گیا ہے، اس کو تمام دنیا کے مسلمان شخصی منقبت کے معنی میں لیے ہوئے ہیں۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں ایک بہت بڑی حقیقت کا اعلان ہے۔
وہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے تاریخ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ جس کا حوالہ قرآن میں اتمام نور (التوبۃ، 9:32۔ الصّف، 61:8) کے الفاظ میں ملتا ہے۔ یہ اتمام نور کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے ذریعے تاریخ میں ایک عالمی انقلاب برپا کیا جائے گا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں ایک بہت بڑا واقعہ پیش آئے گا۔ وہ ہے آفاق وانفس کی آیات (فصلت، 41:53) کا منکشف کیا جانا۔ اس عمل (process) کے نقطۂ انتہا (culmination) پر وہ عظیم حقائق ظاہر ہوئے جن کو اللہ رب العالمین کی معرفت کا کائناتی خزانہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ انقلاب وہی تھا جس کو جدید سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار وہ سائنٹفک فریم ورک انسان کے علم میں آیا، جو اللہ رب العالمین کی اعلی معرفت کا دفتر ہے۔
میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے اس حقیقت کو دریافت کیا، اور سائنسی فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے ، اللہ رب العالمین کی اعلی معرفت تک پہنچا۔ یہ ربانی معرفت بلاشبہ میرا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر میں اس فریم ورک سے بے خبر ہوتا تو شاید میں ایک اندھے بہرے انسان کی حیثیت سے جیتا اور اندھے بہرے انسان کی حیثیت سے مرتا۔ رسول اللہ کے رحمتہ للعالمین ہونے کا ایک ناقابل بیان پہلو یہ ہے کہ آپ کے ذریعے وہ انقلاب آیا، جس نے اللہ کی اعلی معرفت تک رسائی کو ہر انسان کے لیے ممکن بنا دیا، اور بلاشبہ اللہ کی اعلی معرفت سے زیادہ بڑی کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ معرفت صرف ایک چیز نہیں، وہ تمام مطلوب چیزوں کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔