امن ایک اقدام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰
امن ایک اقدام
اسلام میں جنگ، دفاع کا معاملہ (issue of defence) ہے۔ اور امن، اقدام کا اشو (issue of advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے جنگ چھیڑیں۔ البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعہ کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میں اور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس لیے جنگ میں فتح بھی ایک نئی جنگ کا آغاز بن جاتا ہے۔
پرامن منصوبہ بندی ہمیشہ اپنا کام کرتی ہے، پر امن منصوبہ بندی کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پر امن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہو جائے اور لوگوں کو پرامن سرگرمیوں کے لیے مواقع (opportunities) حاصل ہو جائیں۔ اسلام کے دور اول کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل ایمان اور ان کے مخالفین کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوئیں۔ مثلاً غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ حنین، وغیرہ۔ مگر ان لڑائیوں سے ٹکراؤ ختم نہیں ہوا۔ ٹکراؤ کا خاتمہ اس وقت ہوا، جب آپ نے یک طرفہ طور پر صلح کی۔ قرآن میں فتح کی آیت صرف صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس آیت میں فتح کا مطلب ہے ٹکراؤ کا خاتمہ اور پرامن سرگرمیوں کے لیے موافق ماحول پیدا ہو جانا۔ کسی اور غزوہ کے بعد فتح کی آیت نہیں اتری۔ حدیبیہ کا واقعہ 6 ہجری میں پیش آیا۔ اس موقع پر فریق ثانی کی کوشش صرف یہ تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل نہ ہوں، اور عمرہ کیے بغیر واپس مدینہ چلے جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خود