امن ایک اقدام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۱
اپنی طرف سے امن کی بات چیت (peace negotiation) شروع کی۔ اس معاملہ میں آپ اس آخری حد تک گیے کہ فریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ صرف اس مقصد کے لیے کہ دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہو جائے اور معتدل حالات قائم ہو جائیں۔ تا کہ کھلے طور پر اسلام کے دعوتی مشن کو جاری کیا جا سکے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس طرح فریق ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر لی تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کر دیا گیا کہ یہ پرامن مصالحت باعتبار نتیجہ ایک فتح مبین (clear victory) ہے۔ قرآن کی یہ پیشگی خبر صرف چند سالوں میں واقعہ بن گئی، پرامن اقدام باعتبار نتیجہ فتح ثابت ہوا۔
اسلام میں جنگ مجبوری کے تحت وقتی دفاع کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، پرامن منصوبہ اس لیے ہوتا ہے کہ سماج کے اندر مستقل طور پر اعتدال کی حالت قائم ہو جائے ۔ ہر فرد کے لیے تعمیری سرگرمیوں کے مواقع حاصل ہو جائیں۔
☆☆☆☆☆
بعد کے دور کے مسلم علماء نے جو باتیں کہی ہیں، ان کی ایک قسم وہ ہے جو نص قطعی پر مبنی ہو ۔ کوئی عالم جب ایک ایسی بات کہے جو قرآن وحدیث کے ثابت شدہ حوالوں پر مبنی ہو تو ایسی رائے پر کسی کو تنقید کا حق نہیں۔ مثلاً ایک عالم اگر یہ کہتا ہے کہ نماز اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے تو اس پر کوئی شخص تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ کیوں کہ یہ رائے ایک معلوم نص پر مبنی ہے۔ ہے۔ رائے کی دوسری قسم وہ ہے جو قرآن و حدیث پر اضافہ کے ہم معنی ہو۔ مثلاً دار الكفر ، دار الحرب اور دار الاسلام کی اصطلاحیں مقرر کرنا۔ ایسی رائے شرعی اصطلاح کے مطابق ایک اجتہاد ہے۔ اجتہاد کے بارے میں شریعت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ مجتہد کا اجتہاد صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔