Al-Risala · May 2018 · page 33

عذاب سے نجات

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۳

عذاب سے نجات

قرآن میں بنی اسرائیل (یہود) کے حوالے سے ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذَلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ (2:49)۔ یعنی اور جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی۔ وہ تم کو بڑی تکلیف دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بھاری آزمائش تھی۔

یہ اس واقعہ کا ذکر ہے، جب کہ قدیم مصر میں یہود کو فرعون جیسے ظالم بادشاہ کے ظلم کا سامنا تھا، اور پھر اللہ نے اس سے نجات دی۔ موجودہ زمانے میں نجات کا یہی واقعہ امت مسلمہ کے ساتھ پیش آیا۔ یہود کے ساتھ قدیم عذاب دراصل مذہبی تعذیب (religious persecution) کا واقعہ تھا۔ موجودہ زمانے میں امت مسلمہ کے ساتھ بھی زمانی فرق کے ساتھ اسی قسم کا تجربہ پیش آیا۔ یہ تجربہ زیادہ تر سیاسی جبر (political persecution) کی بنا پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ دنیا سے سیاسی جبر کا نظام ختم ہو گیا، اور آزادانہ جمہوریت کا نظام ساری دنیا میں قائم ہو گیا۔ 1945 میں اقوام متحدہ (UNO) قائم ہوئی، اور دنیا کی تمام قوموں کے اتفاق سے یہ طے ہوا کہ اب کسی بھی شخص یا گروہ پر مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا جبری تشدد نہیں کیا جائے گا۔ اب دنیا کا مل مذہبی آزادی کے دور میں ہے۔ اب اگر کسی گروہ کو جبری تشدد کا سامنا پیش آئے تو وہ خود اس کی اپنی نا عاقبت اندیشانہ پالیسی کی بنا پر ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ لوگوں نے”آبیل مجھے مار“ کی سیاست اختیار کی۔ موجودہ زمانے میں اگر کوئی شخص یا گروہ حقیقی معنوں میں پر امن طریق کار کو اختیار کرتے ہوئے اپنا کام کرتا ہے تو اس کو ہر گز کسی سے کسی قسم کے جبری تشدد کا سامنا پیش نہیں آئے گا۔ قدیم زمانے میں یہود کو ظلم سے جو” نجات‘‘ ملی تھی، موجودہ زمانے میں اس سے بہت زیادہ بڑی ’’نجات‘‘ اہل اسلام کو مل چکی ہے۔ اب ان کے لیے شکر کا موقعہ ہے، نہ کہ شکایت کا موقعہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page