Al-Risala · May 2018 · page 32

محبت انسانی

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۲

محبت انسانی

محبت انسانی کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 13875)۔ یعنی تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ وہ دوسروں کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ اس بات کو فارسی شاعر شیخ سعدی (585-691ـھ) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : هر چه بر خود مہ پسند ی، بر دیگر اں مہ پسند (جو چیز تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے ، اس کو تم دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرو)۔ ہر انسان سے محبت کرنا، محض ایک سماجی یا اخلاقی تقاضہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنی شخصیت کے ارتقا کی بات ہے۔ یہ انسان کا خود اپنا انٹرسٹ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔ جو آدمی ایسا نہ کرے، وہ اپنے آپ کو جنت میں داخلے کے لیے غیر مستحق ثابت کر رہا ہے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا (56-25:26)۔ یعنی اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ مگر صرف سلام سلام کا بول۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت کی سوسائٹی ایک ایسی سوسائٹی ہوگی، جہاں ہر آدمی کے دل میں دوسرے کے لیے سلامتی ہوگی، جہاں ہر آدمی اعلیٰ اخلاق کی پابندی کرنے والا ہوگا، جہاں کوئی شخص ایسا کام نہیں کرے گا جس سے اس کے پڑوسی کو ذرا بھی کوئی تکلیف پہنچے۔ جنت ایسے انسانوں کا معاشرہ ہوگا، جہاں ہر شخص دوسرے انسان کا کامل معنوں میں دوست اور خیر خواہ ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت کا عقیدہ ہر انسان کے لیے حسن اخلاق کو اس کے ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ بنا دیتا ہے۔ ہر آدمی اخلاق کے معاملے میں حد درجہ حساس ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ اگر وہ اخلاق کے معاملے میں اعلیٰ معیار پر قائم نہ ہو تو وہ قانون قدرت کے مطابق ، جنت میں داخلے کے لیے نااہل ہو جائے گا۔ جنت کو ماننے والا کوئی شخص اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر پورا نہ اترے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page