عہدِ شباب
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۰
عہدِ شباب
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری میں اس کا ابتدائی جزء یہ ہے: يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ، حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ البَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3611)۔ اس حدیث میں ایک ظاہرے کی طرف اشارہ ہے، جس کی ایک انتہائی صورت کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر اس سے قطع نظر اس حدیث سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کوئی آدمی جب اپنے عہدِ شباب (youth age) میں ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنی عقل و فہم کے اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کی اس رائے کو زیادہ قابلِ اعتبار سمجھنا چاہیے جس کو اس نے پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد ظاہر کی ہو۔ قرآن سے بھی فطرت کا یہ اصول معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ جب جوانی کی عمر میں تھے۔ اس وقت انھوں نے مصر کے ایک قبطی کو گھونسا ماردیا، جس سے وہ مر گیا (القصص، 28:15)۔ لیکن حضرت موسیٰ کو عہدِ شباب میں نبوت نہیں دی گئی۔ بلکہ اس وقت دی گئی جب کہ وہ پختگی کی عمر (age of maturity) تک پہنچ چکے تھے۔ کیوں کہ بحیثیتِ پیغمبر ان کو قولِ ليّن (طہ، 20:44) کی زبان میں کلام کرنا تھا۔
مذکورہ حدیث میں مسلم تاریخ کے ایک اہم پہلو کی توجیہہ ملتی ہے۔ مسلم تاریخ اپنے بعد کے زمانے میں نظریاتی انتہا پسندی (ideological extremism) کی طرف چلنے لگی۔ اس کو حدیث میں انتباہ کی زبان میں غلو (ابن ماجہ، حدیث نمبر 3029) کہا گیا ہے۔ حدیث کے مطالعے سے مذکورہ تاریخی ظاہرہ کی نفسیاتی توجیہہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بعد کے زمانے میں جن افراد کو مسلمانوں کے اندر مفکر (thinker) کا درجہ ملا، ان کی فکر ان کے عہد شباب میں تشکیل پائی تھی، جب کہ وہ پختگی کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ مثلاً ابن تیمیہ، عبد الوہاب نجدی، ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔