عہدِ شباب
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۱
عہدِ شباب میں انسان کے اندر جوش کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کے افکار میں اکثر انتہا پسندی کا انداز پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اعتدال کی زبان بولنے کے بجائے، انتہا پسندی کی زبان بولنے لگتا ہے۔ بعد کو اس کی یہ فکر مقدس بن کر لوگوں میں اتنی پھیل جاتی ہے کہ لوگ اس کو نظر ثانی کے بغیر درست فکر سمجھ لیتے ہیں۔ یہی واقعہ بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔
مثلاً ابن تیمیہ کے زمانے میں یہ خبر پھیلی کہ ایک عیسائی نے پیغمبر اسلام کے بارے میں کوئی بات کہی ہے، جس کو اس وقت کے مسلمانوں نے شتم رسول کا کیس قرار دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ ابن تیمیہ اپنی جوانی کی عمر میں تھے۔ اس وقت انھوں نے عربی میں ایک ضخیم کتاب لکھی: الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ اس کتاب میں انھوں نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ جو آدمی شتم رسول کا مرتکب ہو، اس کی سزا قتل ہے۔ ابن تیمیہ اس وقت اگر پختگی کی عمر میں ہوتے تو یقیناً ان کا ردِ عمل مختلف ہوتا۔ وہ مذکورہ عیسائی سے مل کر اس کو ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے۔ وہ ایک ایسی کتاب لکھتے جس میں وہ بتاتے کہ شتم رسول جیسا غیر فطری معاملہ ہمیشہ غلط فہمی کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے آدمی کے اوپر تبلیغ کرنا چاہیے، اور پر امن دعوتی عمل کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا، اس کے بعد انھوں نے اپنی اردو کتاب الجہاد فی الاسلام لکھی۔ اس وقت وہ اپنی جوانی کی عمر میں تھے۔ چناں چہ انھوں نے جوش و خروش کے انداز میں ایک ایسی کتاب لکھی جس میں جہاد بمعنی قتال کی زبردست وکالت کی گئی تھی۔ حالاں کہ اگر وہ اس وقت پختگی کی عمر میں ہوتے تو شاید وہ ایک اور کتاب لکھتے جس کا عنوان یہ ہوتا، الدعوة الی اللہ۔ اس کتاب میں وہ پر امن دعوت کی اہمیت بتاتے اور مسلمانوں کو راغب کرتے کہ وہ پر امن دعوت کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی معاملہ دوسرے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے براہ راست طور پر قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے، نہ کہ بعد کے زمانے میں لکھی ہوئی کتابوں کا۔