Al-Risala · May 2018 · page 45

دشمن میں دوست

الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۵

دشمن میں دوست

جس کو آپ دشمن سمجھتے ہیں، وہ آپ کا سب سے بڑا دوست ہے۔ آپ کا مفروضہ دشمن آپ کی فکر کو بیدار کرتا ہے۔ وہ شاک (shock) کے ذریعہ آپ کے ذہن کی بند کھڑکیوں کو کھولتا ہے۔ وہ آپ کو نئے انداز سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ آپ کو نان کریٹیو مائنڈ سے ترقی دے کر کریٹیو مائنڈ بناتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا دشمن آپ کا بے رحم ناقد ہے، اور بے رحم ناقد سے زیادہ اچھا مشیر (adviser) اور کوئی نہیں۔

میں ایک مرتبہ ایک شہر میں گیا۔ وہاں مجھے مقامی زو(zoo) دکھایا گیا۔ اس زو میں ایک انکلوزر (enclosure) تھا۔ اس انکلوزر میں بہت سے ہرن بیٹھے ہوئے تھے۔ زو کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ یہ ہرن یہاں کے پرامن ماحول میں رہتے رہتے ڈل (dull) ہو جاتے ہیں، ان کی فرٹیلیٹی (fertility) کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہم کبھی کبھی ان کے درمیان بھیڑیا ڈال دیتے ہیں۔ تاکہ ہرن ان کے خوف سے دوڑیں، اور اس طرح ان کی فرٹیلیٹی کی صلاحیت بیدار ہو۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان بھی اگر آسودگی میں رہے تو اس کا ذہن ڈل ہو جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا معاملہ ہے کہ انسان کے معاشرے میں ان کے حریف (rival) موجود ہوں۔ تا کہ انسان کا ذہن برابر بیدار رہے، وہ کبھی ڈل (dull) نہ ہونے پائے۔ انسان کی ترقی کے لیے چیلنج (challenge) بہت ضروری ہے۔ چیلنج کی حیثیت شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کی ہوتی ہے۔ چیلنج ایک رحمت کا معاملہ ہے۔ چیلنج سے سوئے ہوئے انسان جاگتے ہیں۔ چیلنج آدمی کو مین (man) سے ترقی دے کر سوپر مین (superman) بنا دیتا ہے۔

انسان کے اندر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔ لیکن یہ صلاحیتیں خوابیدہ (dormant) حالت میں ہیں۔ ان صلاحیتوں کو جگانے کے لیے ’’دشمن‘‘ درکار ہوتے ہیں۔ دشمن آپ کا سب سے بڑا دوست ہے۔ دشمن آپ کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2018 All issues

Printed page