دشمن میں دوست
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۶
خبر نامہ اسلامی مرکز - 259
متلاشی حق انسان اورنگ آباد کی پی ایس ممبر عبد السمیع صدیقی فون9766663559:) 13 مارچ 2018 کو اپنے آفس کے سینئر ساتھی کو ترجمہ قرآن دینے ان کے فلیٹ پر گئے۔ واپسی کے وقت ایک ہندی ترجمہ قرآن ان کے ہاتھ میں تھا۔ راستے میں ایک خاتون، کلپنا چھترے نے ان سے پوچھا: بھیا، یہ قرآن سیل (sale) کرنے کے لیے ہے؟ کیوں کہ میری خواہش ہے کہ اگر میری بھاشا میں قرآن مل جائے تو میں قرآن کو پڑھوں۔ مسٹر عبد السمیع نے جواب دیا کہ یہ سیل (sale) کرنے کے لیے نہیں ہے، لیکن آپ پسند کریں تو یہ آپ کے لیے ہے، یہ کہہ کر ان کو ہندی ترجمہ قرآن دے دیا۔ مذکورہ خاتون بہت زیادہ خوش ہوئی اور بہت ہی احترام کے ساتھ قرآن کو اپنے دونوں ہاتھوں سے لیا، اور شکریہ ادا کیا۔
اسرائیل میں دعوت: اسرائیل سے ملنے والی خبروں کے مطابق ، اسرائیل میں دعوت کے وسیع مواقع موجود ہیں، فلسطینی نوجوانوں کا ایک گروپ مسٹر طارق بن شہاب کی سرکردگی میں بیت المقدس اور ناصرہ (Nazareth)، وغیرہ، میں سیاحوں کے درمیان دعوتی کام کرتا ہے۔ ذیل کا پیغام انھوں نے سی پی ایس انٹرنیشنل، دہلی کے ٹرسٹی اور گولڈ ورڈ بکس کے ڈائریکٹر مسٹر ثانی اثنین خان صاحب کو بھیجا ہے :
As Salam alaykom Brother, how are you. Let me tell you that the English Quran copies you had sent are almost finished. So when will the next shipment arrive here? We need many, many copies of all languages you have, brother, we need a big shipment. سی پی ایس علماء ٹیم کا دعوتی دورہ: مولاناسید اقبال احمد عمری (چنئی)، اور حافظ فیاض الدین عمری (حیدر آباد) نے 23 اکتوبر تا 28 اکتوبر 2017 پنجاب کا دعوتی دورہ کیا۔ اس سفر کا سب سے پہلا مقام امرتسرتھا۔ یہاں یہاں قرآن ڈسٹریبیوشن کے سلسلے میں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں رہیں۔ ائمہ مساجد نے دعوتی کام سے دلچسپی ظاہر کی، اور پنجابی ترجمہ قرآن لیا۔ اس کے بعد دمدمہ صاحب ٹیم کے جتھے دار بھائی ہر پریت سنگھ جی سے ملاقات کے لیے دمدمہ صاحب جانا ہوا۔ واضح ہو کہ جتھے دار بھائی ہر پریت سنگھ جی نے قرآن کا پنجابی میں ترجمہ کیا ہے، اور خود ہی اس کی ٹائپنگ بھی کی ہے، جس کے لیے انھوں نے بطور خاص کمپیوٹر ٹائپنگ سیکھی۔ جس وقت یہ دونوں حضرات دمدمہ صاحب پہنچے، اُن دنوں وہاں حیدر آباد کے سکھوں کے ذمہ دار بھی آئے ہوئے تھے، لہذا ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہاں سکھ مت کی تعلیم کے لیے ایک ادارہ چلتا ہے، اس ادارہ کے طلبا سے انٹر ایکشن ہوا۔ اس کے بعد پنجابی یونیورسٹی (پٹیالہ) جانا ہوا۔ وہاں ڈاکٹر حبیب محمد صاحب (جو کہ سی پی ایس کی آئیڈیالوجی کو بہت پسند کرتے ہیں، اور دعوت کا کام کرتے ہیں) سے ملاقاتیں ہوئیں اور یونیورسٹی کے ریلیجس اسٹڈیز کے طلبہ کو مولانا فیاض الدین عمری صاحب نے خطاب کیا اور انٹر ایکشن ہوا۔ اس کے علاوہ پٹیالہ میں قائم ٹہر انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیزان سکھ ازم (Tohra Institute of Advanced Studies in Sikhism) میں جانا ہوا۔ وہاں اسلام اور پیس کے بارے میں باتیں ہوئیں۔ اس کے بعد مالیر کوٹلہ کا سفر ہوا۔ وہاں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں، ان میں ڈاکٹر یوسف اور ڈاکٹر اشرف صاحبان بھی ہیں۔ ان دونوں نے پنجابی ترجمہ قرآن کی