قرآن سے نصیحت
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۴
قرآن سے نصیحت
قرآن فہمی کے بارے میں دو آیتیں ان الفاظ میں آئی ہیں: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ دوسری آیت کے الفاظ یہ ہیں: كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (41:3)۔ یعنی یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ ان دونوں آیتوں کے اسلوب پر غور کرنے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن فہمی کی دو سطحیں (levels) ہیں۔ ایک ہے وہ سطح جو عربی زبان بخوبی جاننے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ قرآن فہمی کا علمی درجہ ہے۔ اس سطح پر جو آدمی قرآن کو پڑھے، اس کو قرآن کی باتوں سے معنوی واقفیت حاصل ہو جائے گی۔ قرآن فہمی کی دوسری سطح وہ ہے، جو تدبر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس دوسری سطح پر قرآن فہمی کے ذریعے آدمی کو گہری رہنمائی حاصل ہوتی ہے، جس کو نصیحت کہا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ماہِ رمضان کا بیان ہے، اس کے بعد فرمایا: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (2:185)۔ عربی زبان سے واقفیت رکھنے والا آدمی جب اس آیت کو پڑھے گا تو وہ آیت کا فقہی مفہوم جان لے گا۔ یعنی رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا فرض ہے۔ اس سلسلہ بیان کی اگلی آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں (2:186)۔ اس آیت کو پڑھ کر عربی زبان جاننے والایہ سمجھ لے گا کہ اللہ سے سوال کرنے والا آدمی اللہ سے قریب ہے، اور اس کے سوال کا جواب دیتا ہے۔ لیکن یہ جواب کس صورت میں آتا ہے۔ یہ مجرد عربی زبان جاننے سے معلوم نہیں ہوتا، بلکہ غور و فکر کرنے سے اس کا ادراک ہو سکتا ہے۔ یعنی آیت پر تدبر کرنے کے ذریعے سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues