قرآن کی دو آیتیں
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۵
قرآن کی دو آیتیں
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے لیے پہلی شرط اللہ کا خوف ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (2:282)۔ یعنی اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو علم دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ تقویٰ اور علم کا تعلق یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کو انسان اصلی (man cut-to-size) بناتا ہے۔ یعنی انسان اپنی فکر کے اعتبار سے وہاں پہنچ جاتا ہے، جہاں بطور حقیقت اس کو ہونا چاہیے۔ جب اللہ رب العالمین کی معرفت سے انسان، انسان اصلی بن جائے، اس وقت انسان کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) پیدا ہو جاتی ہے۔ جب انسان کٹ ٹو سائز ہو کر اس حد پر پہنچ جائے ۔ اس وقت وہ اس قابل بن جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو ایز اٹ از دیکھنے لگے، اور ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) ہی وہ واحد شرط ہے جو آدمی کو حقیقی معنوں میں کلام الہی کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ اس سلسلے میں دوسری اہم آیت یہ ہے: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآن کے مطالعے کا معیار (criterion) کیا ہے۔ وہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ قرآن کا مطالعہ آدمی کے لیے ذکر و نصیحت کا ذریعہ بن جائے۔ کوئی بھی دوسری چیز خواہ بظاہر وہ کتنی ہی زیادہ اہم ہو، وہ کلام الہی کے مطالعے کا معیار نہیں بن سکتی۔ خواہ قرآن کے مطالعے کے لیے صحیح طریقہ کار کا معاملہ ہو یا قرآن کے مطالعے سے نتیجہ اخذ کرنے کا معاملہ ہو، دونوں معاملوں میں ایک ہی درست معیار ہے، وہ معیار جو قرآن سے ثابت ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ سے کوئی معیار قائم نہ کرے ۔ بلکہ وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کر کے اس سے درست معیار کو اخذ کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues