Al-Risala · June 2018 · page 7

اللہ اکبر

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۷

اللہ اکبر

نماز اسلام کی بنیادی عبادت ہے۔ نماز میں بار بار یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے امر واقعہ کا اعلان ہے۔ یہ کوئی کلمہ فخر نہیں، بلکہ یہ کلمہ واقعہ ہے۔ انسان پیدا ہونے کے بعد اپنے چاروں طرف ایک عظیم کائنات کو دیکھتا ہے۔ وہ حیرانی کے ساتھ جاننا چاہتا ہے کہ کون اس دنیا کا خالق ہے، کون اس دنیا کو کنٹرول کر رہا ہے، کون اس دنیا کی عظیم ہستی ہے، جس کا وہ اعتراف کرے، اور جس کے آگے وہ ہمیشہ کے لیے جھک جائے، جس کے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ وہ خود کو سرینڈر کردے، جس کے آگے وہ اعتراف کی علامت کے طور پر سجدے میں گر پڑے، جس کے آگے وہ اپنے آپ کو سپرد کر کے اپنی روح کو یہ تسکین دے کہ میں نے اپنے خالق کو پالیا، میں نے اپنے رب کو دریافت کر لیا، میں نے اس ہستی کو جان لیا جو مجھ کو ہر چیز کا دینے والا ہے۔

انسان اس دنیا میں پیدا ہوتے ہی یہ تجربہ کرتا ہے کہ اس کائنات میں ایک اعلیٰ انتظام موجود ہے۔ مثلاً ایک بے حد کامل نظام کے تحت یہاں وہ تمام چیزیں موجود ہیں، جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جا سکتا ہے۔ سورج کے ذریعے روشنی، ہوا کے ذریعے آکسیجن، بارش کے ذریعے پانی، سوئل (soil) کے ذریعے خوراک، استحکام کے لیے زمین کی کشش، اور تہذیب بنانے کے لیے ٹکنالوجی، وغیرہ۔ اس طرح کی ان گنت چیزیں اس کو رات دن بلا قیمت سپلائی ہورہی ہیں۔ انسان پیدا ہونے کے بعد رات دن ان نعمتوں کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کی روح کسی دینے والے کے لیے سرتا پا شکر گزار بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے اندر یہ طلب آخری حد تک جاگ اٹھتی ہے کہ وہ اپنے رب کو پائے، اور سجدۂ اعتراف کے طور پر اس کے آگے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو سرینڈر کر دے۔ اسی کیفیت کا نام ایمان باللہ ہے، اور ابدی جنت اسی ایمان باللہ کی قبولیت کے طور پر رب العالمين کا انعام (reward) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page