Al-Risala · June 2018 · page 8

انابت الی اللہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۸

انابت الی اللہ

انابت کا لفظی مطلب ہے، لوٹنا، بار بار لوٹنا: رجوع الشيء مرة بعد أخرى (to return from time to time)۔ یہی انابت کی اصل ہے۔ انابت کے تمام استعمالات میں یہی مفہوم بطور اصل پایا جاتا ہے۔ یہ لفظ جب اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر ڈسٹریکشن کے بعد دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔ انسان اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ خالق کا تصور اس کی فطرت کے ساتھ پوری طرح وابستہ (interwoven) ہے۔ یہ وابستگی اتنی گہرائی کے ساتھ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ پھر جب انسان مطالعہ کرتا ہے، اور غور وفکر سے کام لیتا ہے تو خالق کے ساتھ اس کی فطرت کی یہ وابستگی اور بھی زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ انسان کو ایک ایسی دنیا میں پیدا کیا گیا ہے، جہاں ہر وقت اس کا سابقہ خالق کے سوا دوسری چیزوں کے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی توجہ اپنے خالق سے دور (distract) ہو جاتی ہے۔ وہ خالق کے بجائے کسی اور کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ جب آدمی کو خالق کی معرفت ہو چکی ہو، اس نے اپنے رب کو دریافت کر لیا ہو تو خدا کے ساتھ اس کا گہرا تعلق بار بار زندہ ہو گا۔ وہ بار بار اپنے رب کی طرف لوٹے گا، اسی کو رجوع الی اللہ کہا گیا ہے، یعنی رجوع الی اللہ اور انابت دونوں اپنے معنی کے اعتبار سے ایک ہیں۔

انابت، صاحب معرفت انسان کی ایک مستقل خصوصیت ہے۔ جس آدمی کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہو چکی ہو، وہ اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اس کا تحمل نہیں کرے گا کہ اس کی توجہ اپنے رب کی طرف سے ہٹ کر کسی اور کی طرف چلی جائے۔ اس لیے اس طرح کی صورت حال میں وہ بار بار لوٹے گا، اور مزید شدت کے ساتھ اپنے رب سے جڑ جائے گا۔ اسی کا نام توجہ الی اللہ یا انابت الی اللہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page