Al-Risala · June 2018 · page 21

اللہ پر اعتماد

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱

اسی طرح 3 ہجری میں غزوۂ اُحد پیش آیا۔ اس میں مسلمانوں کو مشرکین کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ یہ بظاہر ایک دل شکن واقعہ تھا۔ مگر اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جورہ نما آیتیں اتریں، وہ دوبارہ اس کے روشن پہلو کی طرف نشاندہی کرنے والی تھیں۔ ان میں سے قرآن کی ایک آیت یہ ہے: اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مُّثْلُهُ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی احد کی جنگ میں اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کی جنگ میں مشرکین کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔

اسی طرح 6 ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان وہ واقعہ پیش آیا جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ صلح بظاہر مسلمانوں کی سیاسی شکست کے ہم معنی تھی۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ کیا گیا تو برعکس طور پر، اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو تمھارے حریف کے اوپر کھلی فتح دے دی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بظاہر سیاسی شکست کے باوجود اس معاملے میں تم کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے، جو آخر کار مکمل فتح بننے والی ہے، وغیرہ۔ اس خدائی تربیت نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا انسان بنا دیا جو منفی طرزِ فکر سے مکمل طور پر خالی تھا۔ آپ مثبت فکر میں اتنا زیادہ بڑھے ہوئے تھے کہ بلاشبہ آپ کو دنیا کا سب سے بڑا مثبت مفکر (positive thinker) کہا جا سکتا ہے۔

اللہ پر اعتماد

ہجرت کے سفر میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو اس وقت آپ کے ساتھ صرف حضرت ابو بکر صدیق تھے۔ یہ بے حد نازک سفر تھا۔ مکہ کے لوگ آپ کے جانی دشمن تھے۔ یہ یقینی تھا کہ وہ آپ کا پیچھا کریں گے۔ چناں چہ آپ نے شدید احتیاط کے ساتھ یہ سفر فرمایا، حتی کہ آپ کو مکہ سے مدینہ کی طرف جانا تھا، لیکن آپ الٹے رخ پر چل کر غارِ ثور میں پہنچے اور وہاں حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ چھپ کر چند دن قیام کیا۔

مکہ کے سرداروں کو جب آپ کی ہجرت کی خبر ہوئی تو انھوں نے اپنے آدمیوں کو چاروں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page